نیپرا کے نئے سولر قوانین پر صارفین مایوس، وزیر اعظم کا نوٹس

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو نئے سولر ضوابط کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ صارفین کے معاہدوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

وزیر اعظم آفس سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں نیپرا کی جانب سے نئے ریگیولیشنز کے اجرا پر خصوصی اجلاس ہوا۔

یہ اقدام نیپرا کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا، جن کے تحت روف ٹاپ سولر صارفین کی جانب سے پیدا کی جانے والی اضافی بجلی کے معاوضے کے قواعد میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلیاں بجلی کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد سرکاری ملکیت کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں پر دباؤ کم کرنا ہے۔

نیپرا کی تازہ تبدیلیوں میں سولر پینلز سے گرڈ کو دی جانے والی بجلی کا فی یونٹ 27 سے کم کر کے 11 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ یونٹ کے بدلے بجلی ایڈجسٹ نہیں کی جائے گی بلکہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔

پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی دو سے پانچ سو تک فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا اور نجی میڈیا پر اس حوالے سے عوامی رد عمل آنا شروع ہو گیا جس کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی نیپرا کی سولر کے حوالے سے نئے ریگیولیشنز کے اجرا کا نوٹس لیا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا ہے کہ سولر سے مستفید ہونے والے 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد صرف نیشنل گرڈ سے بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر نہ پڑے، اس حوالے سے پاور ڈویژن جامع لائحہ عمل تشکیل دے۔

دوسری جانب نیپرا کی اس نئی پالیسی پر لاہور میں سولر پینلز کا کاروبار کرنے والوں اور صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی سے سولر پینلز لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ آن گرڈ کی بجائے ہائیبرڈ سولر پینل لگانے کو ترجیح دیں گے، اس طرح بیٹریوں کا اضافی خرچ ہوگا اور سولر لگانے کا خرچ بھی 50 گنا زیادہ ہو جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاجر عرفان علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’وزیر اعظم کے نوٹس سے تھوڑا بہت ریلیف مل سکتا ہے لیکن نیٹ میٹرنگ پالیسی بحال نہیں ہوگی۔ کیونکہ پہلے بھی حکومت کی مشاورت سے ہی پالیسی بنی ہوگی۔

’اگر ایسا ہوا تو نہ صرف ہماری انویسٹمنٹ بڑھ جائے گی بلکہ ہائیبرڈ سسٹم کے لیے بیٹریوں کی اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر پڑے گا۔ ‘

نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ پالیسی کیا ہے؟

نیٹ میٹرنگ (پرانی پالیسی – 2015 سے 2025/2026 تک) یونٹ کے بدلے یونٹ کا اصول تھا۔ دن کی روشنی میں سولر سے جو اضافی یونٹ گرڈ کو بھیجے جاتے تھے، انہیں بعد میں (رات یا ابر آلود دنوں میں) ایک کے بدلے ایک یونٹ کے حساب سے ایڈجسٹ کر لیا جاتا تھا۔ اضافی یونٹس کا کریڈٹ 3 ماہ تک رول اوور ہو سکتا تھا۔

گرڈ سے بجلی لینے اور گرڈ کو بجلی بیچنے کی قیمت تقریباً ایک جیسی ہوتی تھی۔ اس طرح سولر صارفین کا بل بہت کم آتا تھا، بعض اوقات صفر یا منفی بھی ہو جاتا تھا۔ اس معاہدے کی مدت بھی کم از کم سات سال تک تھی۔

لیکن نیپرا کی نئی اعلان کردہ نیٹ بلنگ پالیسی سے اب یونٹ کے بدلے یونٹ کا نظام ختم ہو گیا ہے۔ سولر سے گرڈ کو ملنے والی بجلی فی یونٹ ریٹ 11 روپے ہو جائے گا جبکہ گرڈ کی بجلی صارف کو 40 روپے فی یونٹ میں مل سکے گی۔ جس سے گرین میٹرنگ کی بجائے ہائیبرڈ نظام یعنی بیٹریوں سے دن میں بجلی محفوظ کر کے رات کے وقت استعمال کرنا مجبوری بن جائے گی۔

اس معاہدے کی مدت بھی پانچ سال کر دی گئی ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم پرانی پالیسی نیٹ میٹرنگ مکمل بحال کرنے کا حکم دیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *