نہال ہاشمی: متنازع تقریر پر قید کی سزا سے گورنر بننے تک

وفاقی حکومت نے جمعرات کو سندھ کے موجودہ گورنر کامران ٹیسوری کی جگہ نہال ہاشمی کو نیا گورنر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت اس تقرری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد نہال ہاشمی آج دوپہر حلف اٹھائیں گے۔

نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وکالت کے شعبے میں داخل ہوئے اور جلد ہی آئینی اور عدالتی امور میں مہارت کے باعث شہر کی قانونی برادری میں ایک ماہر اور تجربہ کار وکیل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

سیاسی میدان میں نہال ہاشمی کی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے رہی ہے۔ 

سینیئر صحافی اسلم خان کے مطابق انہوں نے 1992 میں ن لیگ میں شمولیت اختیار کی اور یہی ان کے سیاسی سفر کا آغاز تھا۔

1997 میں انہیں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے انسانی حقوق اور قانون و انصاف کے امور کا مشیر مقرر کیا، جہاں وہ 1999 تک اس منصب پر فائز رہے۔ 

بعد ازاں وہ 2012 میں مسلم لیگ ن سندھ کے صدر اور 2014 میں جنرل سیکریٹری بھی بنے۔ 2015 میں وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے اور 2018 تک ایوانِ بالا میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے رہے۔

2018 میں وہ ایک متنازع تقریر کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ 

صحافی لیاقت علی رانا کے مطابق اس تقریر میں ججز کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توہینِ عدالت کے مقدمے میں انہیں ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم ہو گئی اور وہ پانچ سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار پائے۔

نہال ہاشمی نے وکلا تحریک میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ صحافی فیض اللہ کے مطابق وہ کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں میں ہمیشہ آگے رہے اور لاپتہ افراد کے کیسز کو بھی فالو کرتے رہے۔ 

ان کا تعلق بہاری کمیونٹی سے ہے اور وہ مشرقی پاکستان کے محصورین کے مسائل پر بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہیں ایک جارحانہ، دوٹوک اور کھل کر اظہارِ رائے کرنے والے سیاست دان کے طور پر جانا جاتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر نامزد کیے جانے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست میں نمایاں حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *