سپنر عثمان طارق نے منگل کو اعتماد ظاہر کیا ہے کہ انڈیا کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شکست کے باوجود پاکستان اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے۔
انڈیا کی 61 رنز کی یک طرفہ جیت کا مطلب ہے کہ پاکستان کو سپر ایٹ میں جگہ بنانے کے لیے بدھ کو کولمبو میں نمیبیا کو ہر حال میں شکست دینا ہو گی۔
اگر پاکستان یہ میچ ہار جاتا ہے تو وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا کیونکہ گروپ اے میں وہ نیٹ رن ریٹ پر امریکہ سے پیچھے تیسرے نمبر پر ہے۔
اس صورت میں نیدرلینڈز کے لیے بھی کوالیفائی کرنے کا ایک معمولی امکان باقی رہے گا، لیکن انہیں بدھ کو احمد آباد میں شریک میزبان انڈیا کے خلاف ایک بڑی جیت کی ضرورت ہو گی۔
طارق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ٹیم کو اٹھانا تب ہی مشکل ہوتا ہے جب آپ پچھلے میچ میں کی گئی غلطیوں پر کام نہ کریں۔
’ہم نے اپنی غلطیوں پر کام کیا ہے، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ مشکل کام ہو گا۔ہمارا عزم ہے کہ وہی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائیں۔‘
انڈیا سے ہار کے بعد پاکستان کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ طارق کہتے ہیں ’ہم شائقین کی مایوسی محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ یہ میچ پوری قوم دیکھتی ہے۔
’لہٰذا ہم ان کا درد سمجھتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ جب ہم اگلی بار ان سے (انڈیا کو) کھیلیں گے تو بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عثمان نے اس بات کی تردید کی کہ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کو انڈیا کے خلاف خراب کارکردگی کے بعد نمیبیا کے خلاف میچ سے ڈراپ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’بابر اور شاہین نے پاکستان کے لیے بہت سے میچ جتوائے، اس لیے اگر وہ ایک میچ میں اچھا نہ کھیل سکے تو ہمیں انہیں جج نہیں کرنا چاہیے۔‘
پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نمیبیا کا صرف ایک بار سامنا کیا ہے۔
طارق نے کہا ’ہم جس کے خلاف بھی کھیلیں، ہمیں انہیں شکست دینے کا اعتماد ہے اور ہمارا ہدف فائنل کھیلنا اور کپ جیتنا ہے، جس کے لیے ہم پوری کوشش کریں گے۔‘
نمیبیا اپنے گروپ کے تینوں میچ ہار چکا ہے۔
