میکیاولی کے ’دا پرنس‘ سے فرانسیسی انقلاب تک: جمہوریت کا ارتقا

ریاست کے قیام کے بعد معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حکمران طبقہ جس کا سربراہ بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ دوسرا عوام کا طبقہ جو بے بس اور غریب تھے اور حکمران طبقے کی فیاضی اور سخاوت کے سہارے زندگی بسر کرتے تھے۔

ریاست کا سربراہ یا بادشاہ یا تو اپنے خاندان کی وراثت کے تحت شاہی اقتدار حاصل کرتا تھا یا کوئی فوجی مہم جو فوجی طاقت کے ذریعے تخت و تاج حاصل کر کے شاہی خطاب اختیار کرتا تھا۔ 

حکمراں تمام ریاستی اداروں کا مالک ہوا کرتا تھا اور بااختیار ہونے کی وجہ سے اسی کی ذمہ داری تھی کہ ملک میں عدل اور انصاف قائم کرے اور عام لوگوں کے مسائل کو حل کرے۔ اس سیاسی صورت حال میں عہد وسطی کے دانشور معاشرے کو سدھارنے کے لیے عوام کی جانب توجہ نہیں دیتے تھے۔

اُنھیں غیر مہذب اور جاہل سمجھ کر اصلاح کے کام کو بادشاہ کی ذمہ داری قرار دیتے تھے۔ اس کے ذہن کو بدلنے کے لیے قدیم بادشاہوں کے واقعات کو لکھا جاتا تھا تاکہ اسی ماڈل کو اختیار کر کے حکمراں معاشرے کو سدھارنے کا کام کریں۔ 

مثلا مشہور رومی فلسفی سینیکا (Seneca) (d.65 AD) نے رومی شہنشاہ نیرو کے لیے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اُسے حکومت کر نے کے اصولوں کے بارے بتایا گیا تھا۔ رینساں کے عہد میں میکیاولی نے دا پرنس (The Prince) نامی کتاب لکھی تھی جو فلورنس ریپبلک کے سربراہ جولیانو میڈیچی کو پیش کی گئی تھی جسے اس نے پڑھے بغیر ایک طرف رکھ دیا تھا۔

بعد میں یہ کتاب یورپی حکمرانوں کے لیے اہم ہو گئی تھی۔ اس میں حکمرانوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سیاست میں اخلاقی قدروں کی پابندی نہ کریں اور ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اپنے مقاصد کو پورا کریں۔ یہی مشورہ کوتلیہ نے اپنی کتاب ارتھ شاستر میں چندر گپت موریہ کو دیا تھا کہ وہ اپنے سیاسی منصوبوں کی کامیابی کے لیے زہر، خنجر اور عورت کا استعمال کریں۔

اس کے برعکس ایشیائی سلطنتوں میں دانشوروں نے حکمرانی کے لیے اخلاقی قدروں کو ضروری قرار دیا۔ 

جب عباسی عہد میں ایرانی دربار کا اہم حصہ ہو گئے تو انہوں نے عباسی خلیفہ کو قدیم ایرانی ساسانی بادشاہ بنا دیا خاص طور سے نوشیر واں عادل کو بطور ماڈل پیش کیا جس نے عدل و انصاف کے ذریعے عوام کی خدمت کی۔ اس کے ساتھ ہی بادشاہ کی تربیت کے لیے ایسے قصے کہانیوں کی کتابیں لکھی گئیں، جن میں حکمران کو رعایا پرا ور رحم دل بتایا گیا تھا۔ 

مغل بادشاہ شاہ جہاں رات کو سونے سے پہلے قدیم بادشاہوں کے قصے اور کہانیاں سنا کرتا تھا۔

مسلمان حکمرانوں میں نوشیرواں عادل بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یا تو اس سے انہوں نے بطور خطاب اختیار کیا یا ان کے خوشامدی درباریوں نے انہیں عادل کہہ کر انہیں مشہور کیا۔ 

مغل بادشاہ جہانگیر نے بھی اپنے محل میں عدل کی ایک زنجیر لٹکائی تھی، تاکہ مظلوم اسے کھینچ کر انصاف طلب کرے۔ 

یورپ میں روشن خیالی کے عہد میں دانشوروں کو عوام سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ معاشرے کی اصلاح حکمرانوں کی طرح چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دیدرو اور ( Voltaire ) کی دوستی حکمرانوں سے تھی۔ Voltaire کہا کرتا تھا کہ میں ایک شیر کی اطاعت کر سکتا ہوں بجائے اس کے کہ دو سو چوہوں کی تا بے داری۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روشن خیالی کے یہ مفکرین جمہوریت اور عوامی طاقت کے سخت خلاف تھے اور حکمرانوں کی سرپرستی میں اپنے خیالات اور افکار کا نفاذ چاہتے تھے۔

وقت کے ساتھ یورپ کی سیاست بدلتی رہی۔ فرانسیسی انقلاب نے عام لوگوں کو ایک نئی توانائی اور شعور دیا۔ 

انقلاب میں حکمران طبقے اور بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور عوام سیاست میں آ کر متحرک ہو گئے اور یہ سلسلہ سیاسی تبدیلوں کے ساتھ فرانس اور یورپ کے ملکوں میں جاری رہا۔ 1830 میں فرانس میں جولائی انقلاب آیا اور پرانے شاہی خاندان اور قدیم باربوں خاندان کی جگہ Louis Philippe نیا بادشاہ بنا۔ اس کے عہد میں فرانس میں مختلف سیاسی نظریات کی جماعتیں تھیں۔ جو اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

Louis Philippe اپنی حکومت میں ان جماعتوں کو مطمئن نہیں کر سکا لہذا 1848 میں فرانس اور یورپ میں انقلاب کی لہر آئی۔ فرانسیسی عوام نے شاہی محل کو گھیر لیا۔

اس موقع پر ایک صحافی نے Louis Philippe سے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ تخت سے دستبردار ہو جائیں۔ جب اسے اپنی مدد کا کوئی سہارا نظر نہیں آیا تو وہ فرار ہو کر انگلستان چلا گیا اور وہی اُس کی وفات ہوئی۔

1848 کے انقلاب نے پورے یورپ کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑا کیا۔ اگرچہ انقلاب کامیاب نہیں ہوا مگر اب عوام کی یہ طاقت تھی کہ وہ حکمرانوں کو معزول کر سکتے تھے۔ عوامی تحریکوں کی وجہ سے جمہوری ادارے قائم ہوئے ہر ملک نے اپنا دستور بنایا جس میں عوام کو بنیادی حقوق دیے گئے۔ عہد وسطی کے حکمراں جو بااختیار تھے اب وہ عوامی طاقت کے سامنے جُھک کر ان کی مدد چاہتے تھے۔

یہ تاریخ کی ایک بڑی تبدیلی تھی جس کا آغاز یورپ سے شروع ہوا اور پھر جمہوری اداروں کا قیام ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ہوا۔ اب حکمرانوں کی جگہ عوامی طاقت سڑکوں اور شہر تک کی گلیوں میں آگئی ہے۔ آمرانہ حکومتوں میں اسے دبایا تو جا سکتا ہے مگر اسےکچل کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *