دو برس قبل جب بغداد جانا ہوا تو دیکھا بغداد کا وہ مرکز دوبارہ تاریخی انداز سے بنایا جا رہا تھا جہاں عباسی دور میں بیت الحکمہ ہوا کرتا تھا۔ یہ محل نما ایک عظیم الشان لائبریری اور سائنسی تحقیق کا مرکز تھا۔
عراق میں 2021 میں امریکی فوجی آپریشن ختم ہوا تو آنے والی حکومتوں نے بغداد کے اصل ورثے کو دوبارہ بنانے کی ٹھانی۔
جون جولائی کی 50 ڈگری میں عراقی مستری زرد اینٹوں کو سلیقے سے لگا رہے تھے، اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ آج سے صرف 700، 800 برس قبل ہلاکو خان کی فوجیں پورے بغداد کو راکھ کا ڈھیر بنا گئی تھیں اور کیا ضمانت ہے کہ وہ وحشت ناک منظر دوبارہ واقع نہیں ہو سکتا۔
سکندر اعظم، ہلاکو خان، چنگیز خان، تیمور لنگ، ان کے نام سن کر ہی خیال جنگ و جدل کا آتا ہے۔ کتابوں میں جب یہ پڑھتے تھے کہ فلاں سورما نے 1000 کتب خانے جلا دیے تو بڑا عجیب سا لگتا تھا کہ ایسے کیسے ہوا ہو گا۔ کربلا کے واقعات میں چھ ماہ کے بچے پر ہزاروں کی فوج کا تیر سے حملہ کرنا ناقابل فہم لگتا تھا۔ یہ بھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ 10ویں صدی سے 13ویں صدی یعنی 300 سال کے درمیان شدت میں چھوٹی بڑی آٹھ صلیبی جنگیں لڑی گئیں اور مرنے والوں کی تعداد کبھی ایک لاکھ مسلمان ہوتی، کبھی 40 ہزار مسیحی مرتے۔
یہ سن کر ہی عجیب وحشت سی ہوتی کہ ہم سے کچھ صدیاں پہلے جینے والے انسان کیسے وحشی درندے ہوا کرتے تھے۔ ہم ان خونی مناظر کو سوچ کر ہی تھرا جاتے تھے۔ ہماری آنکھیں تاریخی، جنگی موضوعات پر بنی ’بین حر‘ (Ben-Hur) یا ’ٹرائے‘ (Troy) ٹائپ کی فکشنل فلمیں دیکھ کر پھٹی کی پھٹی رہ جاتی تھیں کہ گئے زمانوں میں کیسے تشدد، خون ریزی اور بربریت ہوا کرتی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آج 2026 میں ہمیں کچھ تصور نہیں کرنا پڑتا۔ خون آلود بچوں کی تصاویر صرف ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ فلمی مناظر کی ضرورت نہیں، غزہ اور لبنان کے بعد ایرانی شہروں کی ڈرامائی تباہی نیوز چینلز پر لائیو دیکھ سکتے ہیں۔ جن کو لگتا ہے کہ ان مناظر میں ایکشن کی کمی ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے جعلی ویڈیوز بنوا رہے ہیں تاکہ تل ابیب پر ایرانی میزائلوں کی بارش والا بالکل فلموں جیسا منظر دیکھا جا سکے۔
دنیا ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے یا شاید ہم کبھی حالت جنگ سے باہر ہی نہیں نکلے۔ یوکرین اور روس کی جنگ کو چوتھا سال ہے۔ غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی اور صومالیہ میں بڑی طاقتوں کی آپسی لڑائی نے بدترین انسانی آفت کو جنم دیا۔ انڈیا اور پاکستان ایٹمی جنگ کے دہانے سے واپس آئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دو نئے دشمن پڑوسی کی شکل میں ابھر رہے ہیں اور اب ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ اور ایران کے جوابی وار کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں جنگی صورت حال ہے۔
یہ جنگیں ہماری صبح کی چائے سے ہمارے بستر تک ہمارے ساتھ چل رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے توسط سے میزائل کا دھواں ہمارے گھروں سے بھی اٹھ رہا ہے۔ یہاں ناروے کے کسی پرسکون کیفے میں کافی پیتے ہوئے میں کتنے ہی بچوں کی لاشوں پر دل ہی دل میں بین کرتی ہوں اور یہ مجھ جیسی کروڑوں خواتین کی روٹین بن گیا ہے۔
فرانس کی میٹرو میں بیٹھے بیٹھے لڑکا اپنے موبائل کے توسط سے لبنان کی اس گلی میں جا پہنچا ہے جہاں ملبے سے ابھی دبی دبی آوازیں آ رہی ہیں۔ اب تصور کرنے کی زحمت بھی نہیں کرنا پڑتی کیونکہ جنگوں کی دہشت سے واشنگٹن کے محفوظ قلعے میں بیٹھے کسی طاقتور ڈپلومیٹ کو بھی جھرجھری آ جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جنگوں کے مناظر دکھا دکھا کر ہمارے جذباتی بوجھ کو ختم کر دیا ہے، اب ہماری فطرت خون ریزی دیکھ دیکھ کر اسے معمول بنا رہی ہے۔
نئے ٹرینڈ کا ریشمی دوپٹہ، چمک سے بھرپور نئی لانچ ہونے والی لپ سٹک، انفلوئنسر کا نیا لطیفہ، کسی دوست کی افطاری سے سجی میز کی تصاویر اور ایرانی قالینوں پر شاندار سیل لگنے کا اشتہار، اور اس کے درمیان غزہ میں بمباری زدہ ہسپتال کے باہر پڑی ماں اور بچی کی لاش، سب ایک قطار کی صورت فیس بک فیڈ میں آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا ہم دیکھنے والوں کی حسیات اور ہمارے دماغوں کو صدمے، غم، ہنسی، خوشی، اطمینان اور بے چینی کے پیغامات سب ایک ساتھ دے رہا ہے۔ سکرولنگ میں اگلی ویڈیو کون سی آئے گی اس کا فیصلہ تو فیس بک، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک والے کر رہے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ جب جنگیں اور زندگی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں تو سوشل میڈیا کا الگوردم بھی وہی دکھا رہا ہے۔
ہم اس جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں بےبس ہیں اور یہی ہمارا نیا نارمل ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
