پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بدھ کو فوجداری ضابطہ 1898 میں اہم ترامیم منظور کر لی ہیں جس کے تحت گرفتار شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اس کی گرفتاری کی اطلاع اپنے کسی قریبی عزیز کو دی جائے۔
پاکستان میں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے غلط استعمال اور بعض افراد کو ’غیر قانونی‘ طور پر حراست میں لینے اور خاندان کو لاعلم رکھنے کے حوالے سے شکایات آتی رہی ہیں۔
اب ان شکایات کے حوالے سے سینیٹ میں ایک بل منظور ہوا ہے جسے پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا۔
اس بل، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے تحت متعلقہ تھانیدار ایس پی رینک سے کم افسر کی منظوری کے بغیر ملزم کو گرفتاری کی اطلاع دینے سے نہیں روک سکے گا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ’شواہد کو نقصان پہنچنے یا تفتیش متاثر ہونے کے خدشے کی صورت میں ملزم کو اطلاع دینے سے روکا جا سکے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سینیٹ میں پیش کیے جانے والے بل میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس کے ہاتھوں غیر قانونی حراست کی روک تھام کے لیے فوجداری ضابطے میں نیا سیکشن 59 اے شامل کر دیا گیا ہے، جس کے تحت حراست کے عمل کو قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
ترامیم کے مطابق اگر ایف آئی آر درج نہ کی جائے تو شہری براہ راست مجسٹریٹ سے رجوع کر سکے گا۔ اس سلسلے میں سیکشن 154 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت مجسٹریٹ کو ایف آئی آر وصول کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
بل کے مطابق ملزم کی وفات کے بعد بھی سزا کے خلاف اپیل کا حق برقرار رہے گا۔ قانونی ورثہ کو 30 روز کے اندر اپیل جاری رکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ وفات پا جانے والے ملزم کے ورثہ خود بھی اپیل دائر کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق ان ترامیم کا مقصد اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہے، اور اس بل کا اطلاق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تک محدود ہوگا۔
واضح رہے اس بل کو ابھی قومی اسمبلی سے پیش ہونا ہے، دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدر مملکت کی توثیق یعنی منظوری کے بعد یہ باضابطہ قانون بن سکے گا۔
