وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے جمعے کو بتایا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ایک پرخلوص اور فعال کردار ادا کر رہا ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کی بہتری ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ان کے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود کئی بار ایران اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے بات کر چکا ہوں تاکہ امن کی راہ ہموار ہو اور برادر اسلامی ممالک کو نقصان سے بچایا جا سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل، چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر بھی اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق ’پاکستان کی کوششیں امت مسلمہ کے بہترین مفاد میں ہیں۔‘
پیڑولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعے کو کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے رواں ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تجویز مسترد کر دی۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رواں ہفتے کے لیے پیٹرول پر 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے اضافے کی تجویز تھی جسے حکومت نے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس اضافے کو مسترد کر کے خود 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’دنیا بھر کے ممالک میں قیمتیں دو گنا ہو چکی ہیں۔ قیمتیں عوام کے بس سے باہر ہو چکی ہیں اور حکومتیں بے بس ہو چکی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اس حوالے سے جامع منصوبہ بنا رہے ہیں جس کا اعلان چند دنوں میں کیا جائے گا جس میں عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ اس منصوبے کو کامیاب کیا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جس کے بعد ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔
جبکہ ایران نے خلیجی توانائی کے انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے اور اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اسلام آباد نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس کے بعد پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کی، جس میں انہوں نے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ’فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پس پردہ مذاکرات ’مثبت سمت‘ میں جاری ہیں لیکن تہران نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
