وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے جمعرات کی شب مشترکہ پریس کانفرنس میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
وفاقی وزرا نے ڈیزل کی قیمت میں بھی 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسےمقرر کردی گئی۔
وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس موقع پر کہا کہ ایران جنگ نے نے پورے خطےکو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ تنازع صرف خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے اس موقع پر قومی سطح پر نظم و ضبط اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آج کے ’مشکل مگر ذمہ دارانہ‘ فیصلوں کو موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس جنگ نے گذشتہ ایک سے دو برس کے دوران پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
علی پرویز ملک نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صورتحال کا حل مذاکرات اور امن کی کوششوں میں ہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دبئی اور عمان کی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں، جہاں سے پاکستان اپنی 80 فیصد توانائی ضروریات پوری کرتا ہے، ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق خام تیل اور ڈیزل کی قیمتیں 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جو ایک تاریخی اضافہ ہے۔
علی پرویز ملک کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کفایت شعاری مہم کے ذریعے کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے اوت اس وقت قوم کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
