مراد سعید کی سینیٹ سیٹ پر پی ٹی آئی امیدوار عرفان سلیم کون ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر ’کارکنوں کے زور دار مطالبے کے بعد‘ عرفان سلیم کو پارٹی امیدوار نامزد کر دیا۔

الیکشن کمیشن نے راول پنڈی کی عدالت سے سزا کے بعد مراد سعید کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا، جس کے بعد خیبر پختونخوا سے اس خالی نشست پر 23 اپریل کو ضمنی انتخابات ہوں گے۔

الیکشن کے لیے پارٹی میں ٹکٹ کے حصول کے لیے سرگرمیاں بڑھنے کے بعد پی ٹی آئی نے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی جس کے ذمے یہ کام تھا کہ امیدواروں کی جانچ کر کے موزوں ترین نام سامنے لایا جائے۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے یہ واضح کیا کہ ٹکٹ ایسے کارکن کو دیا جائے جو جماعت کے پراعتماد کارکنوں میں شمار ہوتا ہو اور عمران خان کے نظریے کی بھرپور نمائندگی کرتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں میں کئی افراد اس ٹکٹ کے اہل تھے اور فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، تاہم کمیٹی نے تمام امیدواروں کی محنت کو سراہتے ہوئے آخری فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا تمام درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد عرفان سلیم کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ ہوا جبکہ سجاد مہمند، غلام بادشاہ بیٹنی اور سردار خان کورنگ امیدوار ہوں گے۔

ٹکٹ کے اعلان سے قبل پارٹی کے اندر اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے تھے اور بعض رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر کھل کر بحث کی۔

کچھ سینیئر رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ یہ ٹکٹ پشاور ریجن کے صدر عرفان سلیم کو ملنا چاہیے کیونکہ وہ پرانے اور سرکردہ کارکن ہیں جنہوں نے پارٹی کے لیے مسلسل قربانیاں دیں۔

تیمور سلیم جھگڑا بھی ان کے حامی تھے اور وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ عرفان سلیم شاید وہ واحد کارکن ہیں جن کا نام عمران خان نے خود سینیٹ نشست کے لیے دیا تھا، اس لیے اگر انہیں نامزد کیا جائے تو نہ صرف انصاف ہو گا بلکہ تمام کارکنان اس فیصلے سے اتفاق کریں گے۔

پارلیمانی کمیٹی کے باضابطہ اجلاس کے بعد اتوار کو اعلان ہو گیا کہ امیدوار کون ہو گا۔

اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ کسی بھی امیدوار کو کمیٹی کے فیصلے سے پہلے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے چاہییں۔

اب کمیٹی نے ہدایت جاری کر دی ہے کہ عرفان سلیم آج الیکشن کمیشن میں اپنے کاغذات جمع کرائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنید اکبر نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اور وزیر اعلیٰ نے میرٹ کو ترجیح دیتے ہوئے 1996 سے پارٹی کے ساتھ کھڑے ایک دیرینہ نظریاتی کارکن کا انتخاب کیا۔

عرفان سلیم کی نامزدگی کو اس فیصلے کا مرکزی نقطہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ نہ صرف پشاور سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ابتدائی سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ہمیشہ جلسوں، جلوسوں اور پارٹی مہمات میں نمایاں نظر آئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پچھلی بار مراد سعید کو ٹکٹ ملا تھا تب بھی عرفان سلیم سینیٹ سیٹ کے کورنگ امیدوار تھے۔

وہ اس وقت پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر ہیں اور انہیں پارٹی کے اندر جارحانہ سیاست اور فعال تنظیمی کردار کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔

اپنے موجودہ عہدے سے پہلے وہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق وہ 1996 سے عمران خان کے نظریے کے ساتھ وابستہ ایک ایسے مستقل مزاج کارکن ہیں جنہوں نے کبھی جماعت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور یہی پہچان انہیں اس بار کے فیصلے کا مرکزی کردار بناتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *