مجتبیٰ خامنہ ای: نئے سپریم لیڈر کو درپیش تین بڑے چیلنج

فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کی قیادت میں پیدا ہونے والا خلا ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے پر کر دیا ہے۔

تاہم اقتدار کی یہ منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کو اپنی جدید تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ نئے سپریم لیڈر کے لیے یہ انتخاب ایک طرف تو ان کی زندگی کے لیے خطرات سے بھرپور ہے کیوں کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز کہہ چکے ہیں کہ نئے سپریم لیڈر اس کا ٹارگٹ ہوں گے۔

دوسری طرف مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک نہیں بلکہ میدانِ جنگ ورثے میں ملا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت تین بڑے اور فوری چیلنجوں کا سامنا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھلی جنگ

نئے سپریم لیڈر کے لیے فوری امتحان ملک کا دفاع اور جاری جنگ کی قیادت ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں، جن کا دائرہ اب عسکری تنصیبات سے آگے بڑھ کر تیل کے کارخانوں تک پھیل گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر جوابی کارروائیاں کی ہیں، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے کندھوں پر اب یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔

انہیں ایک طرف اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے اور دوسری طرف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ تصادم ایران کی مکمل تباہی پر ختم نہ ہو۔ سٹریٹجک فیصلوں میں ان کی ایک غلطی ملک کو خوفناک نتائج کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کی پہلی لہر میں صرف مجتبیٰ خامنہ ای کے والد ہی جان سے نہیں گئے، بلکہ خود مجتبیٰ کی اہلیہ زہرا عادل، ان کی والدہ منصورہ خجستہ اور ایک بیٹا بھی مارے گئے۔

اس وجہ سے بھی مجتبیٰ کے لیے امریکہ کے لیے کوئی لچک دکھانا یا مذاکرات کے لیے آمادگی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

تاہم دوسری جانب بعض تجزیوں کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقابلے پر کم عمر ہیں اس لیے امکان ہے کہ وہ نسبتاً زیادہ لبرل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی دوسرے امیدوار کے مقابلے پر ان کی موروثی حیثیت کی وجہ سے قدامت پرست طبقوں کے لیے ان کی پالیسیوں کو چیلنج کرنا آسان نہیں ہو گا۔ نہ ہی طاقتور پاسدارانِ انقلاب ان کے راستے کی دیوار بن سکتے ہیں کیوں کہ مجتبیٰ ان سے پہلے ہی سے بہت قریبی تعلق رکھتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں اپنی طاقتور حیثیت کی وجہ سے مجتبیٰ اس پوزیشن میں ہیں کہ بڑے فیصلے لے سکتے ہیں جو ایران میں شاید کسی اور کے لیے ممکن نہ ہوں۔

معاشی تباہی اور آبنائے ہرمز کی بندش

ایران کی معیشت پہلے ہی سخت پابندیوں کی وجہ سے ہچکولے کھا رہی تھی۔ جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے صورت حال کہیں زیادہ گمبھیر ہو چکی ہے۔ تیل کی برآمدات رک چکی ہیں اور ملک کے اندر مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے کہ ایک طرف تو انہیں جنگی اخراجات پورے کرنے ہیں تو دوسری طرف عوام کو مکمل معاشی تباہی سے بچانا ہے۔ ان حالات میں انہیں اپنے اتحادیوں سے فوری سفارتی اور معاشی مدد کے لیے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔

داخلی سطح پر عوامی اعتماد کا حصول

مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ دو دہائیوں سے ریاستی معاملات میں پسِ پردہ رہ کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے ہیں۔

ان کی تصویریں بہت کم ہیں اور ویڈیوز نہ ہونے کے برابر۔ انہوں نے آج تک کسی بڑے چینل یا اخبار کو انٹرویو نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پبلک پروفائل نہیں ہے، جو بطور سپریم لیڈر انہیں تعمیر کرنا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خود کو لاحق خطرات کی وجہ سے انہیں شاید خاصے عرصے تک زیرِ زمین رہ کر کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہیں ایران کے اندر بھی بعض حلقوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ایران کے اندر ایک طبقہ موروثی طرزِ حکمرانی کے خلاف ہے اور ناقدین اس پیش رفت کو ’جمہوری اقدار کے منافی‘ قرار دے رہے ہیں۔ خود علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے ان کا بیٹا ان کی جگہ لے۔

دوسری جانب ایران کے لبرل ہیں جو ایک عرصے سے حکومت اور طرزِ حکمرانی کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنوری 2026 میں ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے اور علی خامنہ ای پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہی کی ہدایات پر پولیس نے سختی برتی۔

ان حکومت مخالف گروہوں کے لیے علی خامنہ ای کے بیٹے کو نیا سپریم لیڈر تسلیم کرنا مشکل ہے۔

نئے سپریم لیڈر کے پاس سوچنے کے لیے وقت بہت کم اور فیصلے کرنے کے لیے مسائل کا انبار ہے۔ یہ آنے والے چند مہینے طے کریں گے کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح ایک مضبوط رہنما بن کر ابھرتے ہیں یا پھر یہ اندرونی اور بیرونی دباؤ ایران کے موجودہ نظام کی بنیادیں ہلا دے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *