متاثرین گل پلازہ کا عارضی بازار: ’کاروبار کے گر سکھانے والے والد آج نہیں ہیں‘

کراچی کا گل پلازہ محض ایک بازار نہیں تھا بلکہ گھروں کو نکھارنے کا مرکز سمجھا جاتا تھا، جو اب جل کر راکھ ہو چکا ہے اور یہاں کام کرنے والے کئی دکان داروں کا کاروبار ختم ہو چکا۔ 

لیکن زندگی رکنے کا نام نہیں۔ گل پلازہ متاثرین بھاری اور غمزدہ دلوں کے ساتھ اپنے روزگار کا پہیہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوانوں پر مشتمل ایک این جی او ’ہمدرد ہاتھ‘ نے گل پلازہ متاثرین کے لیے ایک عارضی بازار سجا دیا ہے۔ جو صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ حوصلے، صبر اوردوبارہ کھڑے ہونے کی کہانی بھی ہے۔ 

گل پلازہ سانحے سے متاثر ہونے والے دکاندار یہاں اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کودوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑےشہر کراچی میں اس سال جنوری گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس سے یہ کاروباری عمارت پوری طرح جل کر راکھ ہو گئی جبکہ اس میں کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ 

عارضی بازار میں ایک سٹال تاج محمد کا ہے، جہاں سٹین لیس سٹیل کے برتن سجے ہوئے ہیں۔ تاج محمد کے لیے یہ محض برتن نہیں بلکہ یادوں کا سرمایہ ہیں۔

تاج محمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گل پلازہ آتشزدگی میں نے اپنے والد کو کھویا۔ اب وہ اسی بچے کھچے سامان کے ساتھ اس عارضی بازار میں  بیٹھے ہیں۔

’میرے والد نے ہی مجھے کاروبار کے گر سکھلائے۔ انہوں نے بتایا کہ کس معیار کے برتن رکھنا ہیں، گاہک سے کیسے بات کرنا ہے، یہاں تک کہ ایک ایک چمچ کیسے سجا کر رکھنا ہے۔‘

یہ کہتے ہوئے تاج محمد کی آواز بھرا گئی کہ 

’آج جب میں اس سٹال پر سامان سجاتا ہوں تو ہر چیز میں مجھے اپنے والد کی یاد آتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے دوران ان کے والد کی آخری کال آئی تھی۔

’انہوں نے کہا کہ طبیعت خراب ہو رہی ہے، سانس نہیں آ رہی، یہاں اندھیرا ہے، آپ آجائیں ورنہ ہم مر جائیں گے۔‘

لیکن اس کے بعد انہیں ضلعی انتظامیہ سے اطلاع ملی کہ ان کے والد کی شناخت ہو چکی ہے۔

تاج محمد کے مطابق: ’حادثے والے دن میں معمول سے پہلے دکان سے گھر آگیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ رات 11 بجےواپس آ کر والد سے ملاقات ہو جائے گی، مگر کیا معلوم تھا کہ ایسا سانحہ ہو جائے گا۔‘

ایک سٹال جو حوصلے کی علامت بن گیا

اسی بازار میں مہوش کا ہے، جہاں گھر کی سجاوٹ کے لیے مصنوعی پھول اور دیگر اشیا رکھی ہیں۔

یہ سٹال صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک بیوی کے حوصلے کی کہانی بھی ہے۔

مہوش کے مطابق: ’گل پلازہ میں ان کا تقریباً 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ان کے شوہر وہاں پھولوں کی دکان لگاتے تھے اور آتشزدگی کے بعد ان کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس بڑے مالی نقصان کے بعد ان کے شوہر شدید صدمے سےدو چار ہوئے اور دوبارہ کاروبارشروع کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ایسے وقت میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کا سہارا بنوں گی۔‘

مہوش نے پہلے گھر سے آن لائن کام شروع کیا اور جب عارضی بازار کے بارے میں معلوم ہوا تو یہاں سٹال لگا کر دکانداری شروع کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ عموماً مرد ہی زندگی بھر گھر کی گاڑی چلاتے ہیں۔

’جب ایسا کڑا وقت آئے تو ہر عورت کو چاہیے کہ وہ میری طرح اپنے شوہر کا ساتھ دے۔‘

خریداری کے لیے عارضی بازار آنے والی سیدہ سونیا علی باجوہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اکثر گل پلازہ سے گھر کی سجاوٹ کی اشیا خریدا کرتی تھیں۔ 

گل پلازہ اب مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ مگر آج مجھے موقع ملا کہ انہی دکانداروں سے دوبارہ چیزیں خرید سکوں۔ اور اس بار خریداری کا مقصد صرف ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ متاثرہ دکانداروں کی مدد کرنا بھی ہے۔‘

ایک اور شہری وجیہہ مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’وہ خاص طور پر اس بازار اس لیے آئے ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان اٹھانےوالے کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔

’ہم چھوٹی موٹی خریداری کر کے ان کی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ برا وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے۔‘

انتظامیہ کے مطابق  یہ بازار 27 فروری کو تین دن کے لیے لگایا گیا تھا۔ تاہم شہریوں کی بڑی تعداد اور دکانداروں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس کی مدت بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ہے۔ 

ابتدا میں تقریباً 150 سٹال لگائے گئے تھے، جو اب 200 سے زیادہ ہو گئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *