سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ دو دنوں سے ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد، حلیے سے کم سن لگنے والی لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں، جس پر بہت سے صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
تاہم پولیس کے مطابق اس کیس میں لڑکی کی جانب سے کسی مدعی نے آ کر پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج نہیں کرایا۔
بنوں پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تاحال لڑکی کے خاندان کے کسی فرد نے مقدمہ درج نہیں کرایا، اس لیے اس واقعے کی تفتیش نہیں ہو رہی۔
ویڈیو میں نظر آنے والی کم سن لڑکی لڑکوں کے لباس میں ملبوس نظر آتی ہے اور سر پر سفید رنگ کا رومال پہنا ہوا ہے۔
ویڈیو میں مارنے والے افراد کو پشتو زبان میں لڑکی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، جس میں نامعلوم مسلح افراد اسے کہتے ہیں کہ تم لڑکی ہو اور لڑکوں کا لباس پہن کر لوگوں کے ساتھ موٹرسائیکل پر گھومتی پھرتی ہو، جو شرم کی بات ہے۔
ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے والدین کو نہیں رلائے گی اور ان سے معافی بھی مانگے گی۔ اس پر لڑکی کہتی ہے کہ میرے والدین بھی میرے لیے روتے ہیں اور میں ان سے معافی مانگوں گی۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ لڑکی کو مقامی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس واقعے سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے۔
معاملہ اصل میں کیا ہے؟
انڈپینڈنٹ اردو نے اس کیس کے حوالے سے مختلف متعلقہ افراد سے بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ دراصل یہ واقعہ کیسے اور کیوں پیش آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس حوالے سے اندرونی طور پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بنائی گئی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس لڑکی کا تعلق بنوں کے علاقے ڈومیل سے ہے اور اس کی عمر 15 سے 16 سال بتائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑکی مبینہ طور پر خود کو نمایاں کرنے کے لیے لڑکوں کے کپڑے پہنتی تھی اور لڑکوں کے حلیے میں دیگر لوگوں کے ساتھ گھومتی تھی۔
اسی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ تین چار دیگر لڑکوں کے ساتھ گھومتی تھی اور مختلف شہروں میں جا کر رہتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں وہ ایک لڑکے کے ساتھ اس کے گھر اور حجرے میں مبینہ طور پر رہ رہی تھی اور مبینہ طور پر اسی لڑکے کے والد نے ان نامعلوم افراد کو شکایت کی تھی کہ ان کے بیٹے کو لڑکی سے الگ کیا جائے، جس کے بعد ایسا ہی کیا گیا۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے: ’ان مسلح افراد نے لڑکے اور لڑکی دونوں پر تشدد کیا، جس کے بعد پولیس نے دونوں کو بازیاب کرا لیا اور اب لڑکی محفوظ ہے۔‘
اس واقعے پر انڈپینڈنٹ اردو نے بنوں کے پولیس سربراہ یاسر افریدی اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عصمت اللہ سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی، تاہم کسی نے کال یا پیغامات کا جواب نہیں دیا۔
