لاہور پولیس نے منگل کی شب بتایا ہے کہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں زیر تعلیم فائنل ایئر کی ایک طالبہ نے ہاسٹل کی تیسری منزل سے مبینہ طور پر چھلانگ لگا دی، جو بعدازاں زخموں کی تاب نہ لا کر ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئیں۔
رواں سال کے پہلے دو ماہ میں لاہور میں اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ اس سے قبل ایک 22 سالہ طالب علم نے یونیورسٹی آف لاہور میں عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی تھی جبکہ ایک اور 21 سالہ طالبہ اسی یونیورسٹی کی عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر شدید زخمی ہو گئی تھیں، جنہیں بروقت طبی امداد دے کر ان کی جان بچا لی گئی۔
لاہور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی تیسری منزل سے طالبہ کے چھلانگ لگانے کی اطلاع منگل کی شام 7 بجکر 55 منٹ پر ون فائیو کو موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیم نے لڑکی کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاع موصول ہوئی کہ طالبہ نے تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی ہے، لیکن اس کی تحقیقات جاری ہیں کہ واقعی انہوں نے خود چھلانگ لگائی یا کوئی اور واقعہ پیش آیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق طالبہ کی شناخت 22 سالہ فریحہ کے نام سے ہوئی ہے، جن کے فائنل ایئر کے امتحانات ہو رہے تھے۔
ابتدائی معلومات میں بتایا گیا کہ طالبہ چھ ماہ سے کافی زیادہ ڈپریشن کا شکار تھیں۔ ان کا فائنل ایئر کا ایک پیپر ہو چکا ہے اور دوسرا پیپر جمعے (19 فروری) کو ہونا تھا، جس کی وہ تیاری کر رہی تھیں۔
جان سے جانے والی طالبہ کشمیر کی رہائشی تھیں اور اس سے قبل والد کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر رہی ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے تاکہ انکوائری کر کے جلد سے جلد رپورٹ پیش کی جا سکے۔
دوسری جانب فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی نے طالبہ کی موت کے بعد تمام امتحانات ملتوی کر دیے ہیں اور 18 سے 24 فروری تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔
