لاہور میں ایک سرکاری افسر نے گذشتہ 10 سالوں میں حج اور عمرے کی سعادت کے دوران جمع کیے گئے انمول تبرکات پر مشتمل ایک گیلری بنا رکھی ہے، جس میں پیغمبر اسلام کے دور کے سکے سمیت موئے مبارک بھی شامل ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کے شہر مکہ و مدینہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، جہاں ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان عمرے اور حج کے لیے آتے ہیں۔ نبی اسلام سے وابستہ ہر جگہ اور چیز سے مسلمان خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں اور ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسے تبرکات حاصل کرے جن کی نسبت پیغمبر اسلام سے ہو۔
امیر علی بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں عمرے اور حج کی سعادت نصیب ہوئی تو اس دوران انہیں شوق ہوا کہ خاص تبرکات جمع کیے جائیں۔ لہذا انہوں نے تبرکات جمع کرنا شروع کیے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے۔ ’سعودی عرب میں موجود اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے ایک ہی التجا کی کہ مجھے تبرکات فراہم کیے جائیں۔ لہذا نبی اسلام، حضرت علی، حضرت حسین اور حضرت حسن کے موئے مبارک، غلاف کعبہ کے ٹکڑے، خانہ کعبہ کے پرانے دروازے کا قفل، نبی اسلام کے دور کا سکہ، گنبد خضرا پر رنگ کے کے لیے استعمال ہونے والے رسے کے ٹکڑے سمیت بہت سے تبرکات جمع کیے۔‘
امیر علی کے مطابق چار سال پہلے انہیں خیال آیا کہ ان تبرکات کی زیارت سے دوسرے مسلمانوں کو بھی مستفید کیا جائے۔
’لہذا چار سال پہلے گھر کے ایک حصے میں گیلری بنائی، جس میں سارے تبرکات سجا دیے تاکہ جو چاہے ان کی زیارت کر سکے۔ یہاں رمضان میں افطار کے بعد لوگ آتے ہیں، زیارت کرتے ہیں اور نوافل ادا کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’ہم نے اس گیلری کو بہترین ڈیزائن کیا ہے۔ تبرکات کے لیے خصوصی فریم بنوائے اور انہیں خانہ کعبہ کی سمت میں دیوار پر سجایا ہے تاکہ ان کی زیارت کرنے والے نوافل پڑھیں تو یہ ان کے سامنے ہوں۔ اس کے علاوہ ہم یہاں صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
’ماہ رمضان میں زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے نوافل ادا کرنے کا خصوصی اہتمام بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ موئے مبارک کو شیشے کے باکس میں سجایا ہے تاکہ لوگ آسانی سے دیکھ سکیں۔ یہاں خانہ کعبہ سے لایا گیا قرآن پاک بھی رکھا ہے جسے دیکھ کر لوگ روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔‘
