پاکستان کی قومی اسمبلی نے منگل کو عسکریت پسندوں کے خلاف ’جنگ میں بے مثال قربانیوں پر مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد‘ منظور کر لی۔
یہ قرارداد وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پیش کی جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ’شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘
ریڈیو پاکستان کے مطابق قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ’پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘ نیز مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور لگن کو سراہتے ہوئے ملکی سلامتی کے تحفظ، استحکام کے قیام اور امن برقرار رکھنے کے لیے ان کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے حالیہ ریمارکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’غیر ذمہ دارانہ اور ایک قومی ادارے کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی شناخت قومی ہے اور یہ ایک وفاقی ادارہ ہے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔‘
انہوں نے فوج میں مختلف صوبوں اور اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مسلح افواج پورے پاکستان کی قوت ہیں۔‘ وزیر دفاع نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران اور جوانوں سمیت 3141 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن کا تعلق ملک کے تمام علاقوں سے تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خواجہ آصف نے کہا کہ قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ ایک باوقار منصب ہے اور اس نوعیت کے بیانات اس منصب کے وقار کے منافی ہیں۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے یا ضلع تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا کے مقروض ہیں۔‘
دریں اثنا قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ماتحت ادارے معلوماتی خواندگی، میڈیا آگاہی اور ڈیجیٹل لٹریسی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات اور سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات دانیال چوہدری نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو آگاہ کیا کہ پریس کونسل آف پاکستان انٹرن شپ پروگرامز اور سیمینارز کے ذریعے میڈیا لٹریسی کی حمایت کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی نے آج چھ بل بھی منظور کیے جن میں پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025، کینابِس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2026، پاکستان نام اور نشان کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام ترمیمی بل 2026، نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل 2026، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز ترمیمی بل 2025 شامل ہیں۔
