پاکستان نے اتوار کو کہا کہ اس نے رات گئے افغانستان میں قندھار کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
اس صورت حال سے خطے کے استحکام کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں کے باعث اس تنازعے نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ فوج نے14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب قندھار میں حملوں کے دوران سازوسامان ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور ’تکنیکی معاونت کے بنیادی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک افغان طالبان کے 684 کارندے مارے جا چکے ہیں جبکہ 912 سے زائد زخمی ہیں۔
Operation Ghazb-lil-Haq
Update 1600 hours 15 MarchSummary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses
684 Killed,
912+ Injured
252 Posts destroyed
44 Posts captured and destroyed
229 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed
73 terrorists and… pic.twitter.com/Q2D3KNJpfi— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 15, 2026
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے دو مقامات کو نشانہ بنایا: ایک ایسا مقام جہاں دن کے وقت سکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں لیکن رات کو خالی ہوتا ہے اور ایک منشیات بحالی مرکز جسے معمولی نقصان پہنچا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ’حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنگ کی آگ کو ہوا دے رہا ہے۔‘
دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے اتوار کو قندھار میں حملوں کے جواب میں پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کیمپ کے کمانڈ سینٹر اور دیگر تنصیبات کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو گیا اور پاکستانی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس دعوے کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایک چھوٹے ڈرون کو مار گرایا گیا جبکہ ’کسی فوجی تنصیب یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘
افغانستان نے یہ بھی کہا کہ اس نے کنڑ اور ننگرہار صوبوں کے پار پاکستان کے اندر کارروائیاں کیں اور دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر قبضہ کر لیا اور کئی فوجیوں کی اموات ہوئیں، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا۔
پاکستان افغانستان کی طالبان حکومت پر عسکریت پسند گروہوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں اور انہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی نے گذشتہ برس اکتوبر میں قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو بھی ختم کر دیا، جو اس سے پہلے ہونے والی جھڑپوں کے بعد طے پائی تھی جس میں درجنوں فوجی، شہری اور مبینہ عسکریت پسندوں کی اموات ہوئی تھیں۔
ایک مقامی سرکاری اہلکار عدنان خان نے بتایا کہ ’اتوار کو افغانستان کی جانب سے داغا گیا ایک مارٹر خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم چار افراد جان سے گئے جبکہ دو زخمی ہو گئے۔‘
دونوں فریق ایک دوسرے پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ہفتے کو کہا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے‘، جس کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان میں ایک ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیب پر حملہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
