غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح سے اسرائیل کے تازہ حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی جان سے گئے۔
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی فائر بندی کے باوجود فلسطینی علاقے میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ ایک حملہ شمالی غزہ میں بے گھر افراد کے خیمے پر کیا گیا جبکہ دوسرا جنوبی غزہ کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایجنسی کے بیان کے مطابق شمالی علاقے جبالیہ میں بے گھر افراد کے خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔
ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں علی الصبح ہونے والے ایک الگ حملے میں مزید پانچ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور متعدد اس حملے میں زخمی ہوئے۔
غزہ سٹی میں بھی اسرائیلی گولہ باری سے ایک اور شخص جان سے گیا۔
الشفا اور ناصر ہسپتالوں نے تصدیق کی کہ انہیں کم از کم سات افراد کی لاشیں موصول ہوئیں۔
ادھر ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی افواج فائر بندی معاہدے کی حماس کی جانب سے خلاف ورزیوں کے جواب میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اہلکار کے مطابق: ’خلاف ورزی میں کئی مسلح جنگجوؤں کی نشاندہی شامل تھی جو یلو لائن کے مشرق میں ملبے کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے اور اسرائیلی فوجیوں کے قریب موجود تھے، غالباً وہ علاقے میں زیر زمین ڈھانچے سے نکلے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اسرائیلی فوجیوں کے قریب مسلح حالت میں ’یلو لائن‘ یا زرد لکیر عبور کرنا فائر بندی کی واضح خلاف ورزی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حماس منظم طریقے سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور فوجیوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘
گذشتہ سال 10 اکتوبر سے نافذ فائر بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوجیں نام نہاد ’یلو لائن‘ کے پیچھے اپنی پوزیشنوں تک واپس چلی گئی تھیں تاہم وہ اب بھی علاقے کے نصف سے زیادہ حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت، جو حماس کے زیر انتظام کام کرتی ہے، کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 601 فلسطینی مارے چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران اس کے کم از کم چار فوجی بھی مارے گئے۔
