پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کے ایک حالیہ بیان پر کہا ہے کہ اگر ’بیٹے اتنے ہی فکرمند ہیں تو وہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کی منسوخی کے لیے لابنگ کرنے کے بجائے پاکستان آ کر ان (اپنے والد) سے ملاقات کریں۔‘
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے بات کرتے ہوئے اپنے والد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
قاسم خان نے اس حوالے سے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے 47 رکن ممالک سے خطاب کیا اور اپنے والد عمران خان اور پاکستان کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کو حاصل یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر بھی بات کی اور کہا کہ ’میں یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے والد کی طرح میں بھی جی ایس پی پلس (GSP+) سٹیٹس کی مکمل حمایت کرتا ہوں، کیونکہ پاکستان کے عوام کو اس کے رہنماؤں کے اقدامات کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔
’تاہم پاکستانی حکومت کو ان 27 معاہدوں پر مکمل عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا جن کی پابندی کا اس نے اس سہولت کے حصول کے لیے وعدہ کیا تھا، جن میں بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق اور کنونشن اگینسٹ ٹارچر شامل ہیں۔‘
عمران خان کے صاحبزادے کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ردعمل دینے والوں میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی شامل ہیں جنہوں ایکس پر لکھا کہ ’اگر بیٹے واقعی اپنے والد کے بارے میں اتنے فکرمند ہیں تو جی ایس پی پلس سٹیٹس کی منسوخی کے لیے لابنگ کرنے کے بجائے انہیں اپنی محبت اور وابستگی کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے اور پاکستان آ کر ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔‘
جی ایس پی پلس اور پاکستان
یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم کے تحت اہل ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی دی جاتی ہے بشرطیکہ وہ انسانی حقوق، مزدروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کے پابند ہوں۔
پاکستان 2014 سے اس سکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس منصوبے کے بڑے مستفید ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
یورپی یونین یورپ کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کی تقریباً ایک تہائی برآمدات یورپ جاتی ہیں۔
ماضی میں پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔
اپریل 2021 میں یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس کی وجہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، میڈیا کی آزادی پر قدغنوں اور مجموعی انسانی حقوق کے مسائل بتائے گئے تھے۔
