پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف ایک معاشی خبر نہیں، بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کا دردناک باب بن چکا ہے۔ مہنگائی کی بے رحم چکی میں عام آدمی پستا چلا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارا بوجھ صرف عالمی جنگی حالات کی وجہ سے آیا ہے یا اس میں پاکستانی حکومتوں کی پالیسیوں اور کمزور معاشی منصوبہ بندی کا بھی حصہ ہے؟
مسئلہ صرف عالمی جنگ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کی تھی؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر صرف 28 دنوں کے لیے ہوتے ہیں اور سٹریٹیجک ریزورز بھی نہیں ہیں جبکہ انڈیا جیسے ملک کے پاس 74 دن کا تیل سٹاک موجود ہے اور سٹریٹجک ریزورز بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں۔
پاکستان میں پچھلے چالیس سالوں میں تقریباً 6 مرتبہ سٹریٹجک آئل ریزرو بنانے کے منصوبے تیار ہوئے لیکن ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہونے دیا گیا۔
پہلی مرتبہ 1985 اور دوسری مرتبہ 1990میں پی ایس او کے ساتھ مل کر سٹریٹجک آئل ریزرو کے منصوبے شروع کیے گئے، تقریباً 438 ملین روپے بھی خرچ ہوئے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر منصوبے ختم کر دیے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تیسری مرتبہ 2002 میں عراق جنگ کے بعد آئل ریزرو بنانے کا فیصلہ ہوا لیکن وہ فیصلہ صرف کاغذوں میں ہی رہا۔
چوتھی مرتبہ 2006میں ورلڈ بینک کے تعاون سے 60 دن کے آئل ریزرو رکھنے کا منصوبہ پیش کیا گیا لیکن ملک کے انتظامی ڈھانچے پر عدم اعتماد کی وجہ سے ورلڈ بینک نے معذرت کر لی۔
پانچویں کوشش 2015 میں کی گئی، پی ایس او کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے اور 25 پیسے لیوی لگانے کا فیصلہ ہوا لیکن وہ منصوبہ بھی نامکمل رہا۔
چھٹی مرتبہ کوشش سال 2022 میں کی گئی۔ سرکار نے 30 دن کے سٹریٹیجک آئل ریزورز بنانے کے لیے 354 ارب روپے بجٹ کا تخمینہ لگایا۔ فی لیٹر ایک روپیہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی لگا کر 22 ارب روپے اکٹھے کیے گئے لیکن وزارت خزانہ نے وہ رقم سرکاری عیاشیوں میں خرچ کر دی۔ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو سرکار نے رقم واپس کرنے کی بجائے پیٹرولیم ڈویلپمینٹ لیوی کا نام بدل کر پیٹرولیم لیوی رکھ دیا اور اسے اپنے اخراجات میں ظاہر کر دیا۔
سپریم کورٹ بھی بے بس ہو گئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی بدنیتی اور نااہلیت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
سرکار سٹریٹجک آئل ریزرو نہ بنانے کی وجہ وسائل کی کمی، انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی، سیاسی عدم استحکام، پالیسی میں عدم تسلسل اور درآمدی بل بڑھنے کو قرار دیتی ہے۔
جبکہ اگر یہی منصوبہ اسمبلی ممبران کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کا ہوتا تو شاید التوا کا شکار نہ ہوتا۔
مسئلہ صرف ترجیحات کا ہے۔ بدقستمی سے عوام کبھی بھی ہمارے حکمرانوں کی پہلی ترجیح نہیں رہی ہے۔
غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس وقت سرکار کے کاغذوں میں سٹریٹیجک آئل ریزرو قائم کرنے کا ایک بھی منصوبہ زیرغور نہیں ہے۔
اگر پاکستان آج فیصلہ کر لے کہ اس نے سٹریٹجک آئل ریزرو بنانے ہیں تو اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کم از کم پانچ سے سات سال لگ سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں منصوبہ بندی اور فیزیبلٹی سٹڈی ہوتی ہے جس میں تقریباً چھ سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں سٹوریج ٹرمینلز اور انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوتی ہے، جس میں تقریباً تین سے پانچ سال کا وقت لگ سکتا ہے اور تیسرے مرحلے میں ذخائر کو بتدریج بھرنے کا عمل ہوتا ہے جس میں تقریباً ایک سے دو سال لگ سکتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں پانچ سات سال زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ فیصلہ کرنا اور اس پر بغیر کسی رکاوٹ کے عمل درآمد کرنا ہوتا ہے، لیکن سرکار کی توجہ سٹریٹجک آئل ریزرو بنانے پر نہیں بلکہ مہنگائی بڑھانے اور اپنی ناکامی کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے پر ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جس نے سب سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ ابھی نہ نیا تیل خریدا، نہ ملک میں پہنچا اور نہ ہی عوام کو بیچا لیکن رمضان میں قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں سے سرکار نے اپنی عیدی وصول کر لی ہے۔ جس تیل کی قیمت عوام سے وصول کی جا رہی ہے وہ تو ابھی سمندروں میں ہے۔
سرکار جواز پیش کر رہی ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت ریپلیسمنٹ کاسٹ پرائسنگ کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے۔ قیمت اس بنیاد پر نہیں لگائی جاتی کہ حکومت نے تیل پہلے کتنی قیمت پر خریدا تھا، بلکہ اس بنیاد پر لگتی ہے کہ اگر آج نیا تیل خریدا جائے تو اس کی قیمت کیا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ریپلیسمنٹ کاسٹ پرائسنگ کی بنیاد پر بھی قیمت 55 روپے نہیں بڑھائی جا سکتی۔
دراصل سرکار نے موقعے پر چوکا مارا ہے۔ ایف بی آر اس مرتبہ بھی ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر سکی۔ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے دورے پر تھا۔ وہ 20 روپے فی لیٹر لیوی بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جنگی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکار نے 20 روپے فی لیٹر لیوی کے شامل کر کے 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی۔ سانپ بھی مرگیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔
ایک تیر سے دو شکار والی کہاوت سنی تھی لیکن سرکار نے اس کہاوت کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے اور عوام کو بتایا ہے کہ ایک تیر سے چھ شکار بھی کیے جا سکتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے آئی ایم ایف بھی راضی، ایف بی آر کی ناکامی پر بھی پردہ ڈل گیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اربوں روپے کما لیے، سرکار کو روزانہ 90 ملین روپے کی اضافی آمدن، عوام کے لیے بھی جنگ کا بنا بنایا بہانہ اور سرکار نے پیٹرول کی سپلائی چین میں رکاوٹ نہ آنے دینے کا کریڈٹ بھی لے لیا ہے۔
شاید جنگ کو آپرچیونٹی (موقع) سمجھا گیا اور عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال کر بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھو لیے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
