میں اس نکتے پر بار بار زور دیتی ہوں کہ نجی زندگی کو نجی ہی رہنا چاہیے، کسی کی نجی زندگی کو بریکنگ نیوز نہیں بنانا چاہیے۔ شوبز اداکار یا کچھ مشہور شخصیات اپنی نجی زندگی کو بھی پبلک کرتے ہیں، پر ہر کسی کو اس چیز کا شوق نہیں ہوتا۔ لوگ اپنی پروفیشنل لائف کو الگ رکھتے ہیں اور پرسنل لائف کو الگ رکھتے ہیں۔
خاص کر کسی کی عائلی زندگی، اس میں مسائل یا بیماریوں پر بات نہیں ہونی چاہیے۔ ہم سب اپنی نجی زندگی میں فرشتے نہیں ہیں، انسان خطا کا پتلا ہے اور گناہوں اور عیبوں پر پردے پڑے رہیں تو بہتر ہے۔
پر آج کل لوگ خود کو پارسا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی تضحیک کرتے ہیں۔ نظریاتی اور سیاسی اختلاف میں نجی زندگی کو گھسیٹ لاتے ہیں۔ اس میں شادی، عدت، طلاق یہاں تک کہ بیماریاں بھی زیرِ بحث لائی جاتی ہیں۔ ہماری معاشرتی بےحسی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ معذوری کا بھی مذاق اڑانے سے گریز نہیں کرتے۔ خاص کر بیماریوں کو لے کر ہمارا معاشرہ بےحس ہوتا جا رہا ہے۔
مریض کی پرائیویسی نہیں رکھی جاتی اور ان کی نجی معلومات پبلک کر دی جاتی ہیں۔ ان کی بیماری کے بارے میں کریدا جاتا ہے اور بہت سی بیماریوں کو گناہوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے جو کہ غلط عمل ہے۔
بیماری کسی کو بھی، کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ کسی بھی بیمار شخص کا خیال کرنا چاہیے اور اس کی بیماری کو لے کر منفی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ تاہم ہمارے ملک میں جتنا منہ اتنی باتیں، لوگ بیماریوں پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں۔
نجی معلومات لیک ہونے کا خاص نشانہ اہم شخصیات، سیاسی اکابرین اور شوبز کے ستارے بنتے ہیں۔ کبھی یہ معلومات پولیس سٹیشن سے لیک ہوتی ہیں تو کبھی یہ ہسپتال سے لیک ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی رپورٹر یا سوشل میڈیا صارف اس کو ’ایکسکلوسیو‘ کہہ کر اپ لوڈ کر دیتا ہے۔ مریض کیا یہاں تو میت کی کوئی پرائیویسی نہیں رکھی جاتی۔
میں کرائم کور کرنے والے رپورٹرز سے بہت بار گزارش کرتی ہوں کہ کسی واقعے کی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے متاثرہ شخص کی معلومات چھپا لیں۔ اس کی جائے وقوعہ سے تصویریں شیئر نہ کی جائیں۔ کوئی حادثہ ہو جائے تو زخمیوں پر اگر کپڑے مکمل نہیں تو ان کی تصاویر نہ لگائیں اور اگر شناخت کے لیے لگانا ضروری ہے تو ان کے جسم کو دھندلا کر دیں۔ اگر کسی خاتون یا بچے کے ساتھ ریپ ہوا ہے تو اس کی شناخت ظاہر نہ کریں، ان کا نام اور تصویر پبلک میں مت پوسٹ کریں۔ پر ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ زخمی، مریض یا متاثرہ شخص کی پرائیویسی بریچ ہوتی ہے۔
میرے مرحوم شوہر ارشد شریف کے سفاکانہ قتل کے بعد جائے وقوعہ سے ان کی تصاویر لیک کی گئیں، پھر کینیا کے سرد خانے سے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں۔ مجھے بہت رنج ہوا جب یہ تصاویر مجھ تک پہنچیں، ارشد بہت پرائیویٹ انسان تھے اور ان کی میت کی تصاویر کو یوں پبلک کرنا مجھے بہت تکلیف دے رہا تھا۔
سلسلہ یہاں نہیں رکا جب ان کی میت پاکستان آئی تو پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بھی ان کے جسدِ خاکی کی تصاویر لی گئیں، یہ شاید اس عمل کا حصہ ہوتی ہیں، پر وہاں بھی ہماری پرائیویسی کی خلاف ورزی کی گئی۔
پمز ہسپتال مجھے ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں دے رہا تھا۔ اس میں تاخیر کی جا رہی تھی۔ پر افسوس ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اس دوران کھینچی گئیں تصاویر میڈیا اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے لگیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رپورٹ مجھے ملنے سے پہلے میڈیا کو دے دی گئی، جب میں نے ان کے حکام سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا تو مجھے کہا گیا کہ کسی ماتحت عملے نے یہ رپورٹ اور تصاویر میڈیا کو بیچ دی تھیں، یعنی اس ملک میں نہ زندوں کی پرائیویسی ہے نہ مردے کی حرمت۔
یہ تو میں اپنے ذاتی تجربے سے کہہ سکتی ہوں کہ یہاں اپنے میڈیکل ریکارڈ کو مخفی رکھنا بھی ایک ایشو ہے اور جو چیزیں پہلے کورٹ یا فیملی کو ملنی چاہییں، وہ سوشل میڈیا اور میڈیا کو بریکنگ خبر کے طور پر مل جاتی ہیں۔ جبکہ کسی کی زندگی، اس کا میڈیکل ریکارڈ یا رپورٹ فیملی کی اجازت کے بغیر پوسٹ نہیں ہونی چاہییں۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم تو انصاف کے لیے یہ سب کرتے ہیں تو بھی اس کو تصاویر پوسٹ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ رپورٹ، گھر کا ایڈریس اور دیگر کوائف کو چھپا کر انصاف مانگ سکتا ہے۔
اسی طرح اب تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ وہ ایک قومی شخصیت ہیں، ان کی صحت میں سب کو دلچسپی ہے، ان کی زندگی، صحت اور سیاست کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں، تاہم ان کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا اور ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی نہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ان کے ساتھ بھی یہ ہو رہا ہے کہ ان کی رپورٹ اہلِ خانہ، وکلا یا عدالت کو ملنے سے پہلے سوشل میڈیا اور میڈیا پر پہنچ جاتی ہے۔
سوموار کے روز ان کی بہن کے نام پر بنے ہوئے ایک فیک اکاؤنٹ نے ان کی آنکھ میں بہتری کی خبر دی۔ بہت سے نشریاتی اداروں نے بغیر تحقیق کے اس کو رپورٹ کرنا شروع کر دیا جو بعد میں ڈیلیٹ کرنا پڑا۔
اسی طرح جب عمران خان کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تو ان کے اہلِ خانہ بےخبر تھے، ان کو اطلاع میڈیا سے ملی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جب سلمان صفدر عمران خان سے ملے تو ان سے منسوب بھی بہت سی باتیں باہر آئیں۔ جس کی انہوں نے تردید کی اور بعد ازاں اپنی ملاقات کا احوال کورٹ میں جمع کروایا۔
عمران خان کی صحت کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ اور عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کی آنکھ اور بینائی کو لے کر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد اور ان کی پارٹی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کا مکمل چیک اپ الشفا آئی ٹرسٹ اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کروانا چاہیے۔ ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کو ان تک رسائی ہونی چاہیے۔ حکومتی ٹیم کی رپورٹ بھی پہلے سوشل میڈیا پر موجود تھی۔
ہمیں کسی کے بھی صحت کے معاملات کو بریکنگ نیوز کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔ کسی کی بیماری پر قیاس آرائیاں، افواہ سازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین ایک دوسرے کی بیماری اور غمی کا بھی مذاق بناتے ہیں، یہ ایک سفاکانہ رویہ ہے۔ ہر شخص اپنی بیماری میں پرائیویسی، بہترین علاج اور آرام کا حق رکھتا ہے۔
پہلے تو ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ سیاست دانوں کو بیمار ہونے پر لندن روانہ کر دیا جاتا تھا۔ اب عمران خان کو اڈیالہ سے ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کے لیے معیار الگ اور ن لیگ، پی پی پی کی لیڈر شپ کے لیے معیار الگ یہ بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
عمران خان کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں اہلِ خانہ سے ملنے دیا جائے۔ پاکستان میں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی اس لیے ایسی روایات نہ قائم کی جائیں جو کل خود سے برداشت نہ ہو سکیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
