پاکستانی نژاد برطانوی گلوکارہ سائرہ پیٹر نے رواں ماہ امریکہ اور دنیا بھر سے ممتاز خواتین رہنماؤں نے امریکی کانگریس میں منعقد ہونے والے افتتاحی ’شی لیڈز دی نیشنز گلوبل سمٹ اینڈ لانچ‘ میں شرکت کی۔
یہ تقریب واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی، یہ پلیٹ فارم 2021 میں شروع ہونے والی تحریک ’شی لیڈز امریکہ‘ کی عالمی توسیع ہے۔ اس کا مقصد حکومت، میڈیا، کاروبار، تعلیم، صحت، دفاع اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین رہنماؤں کو سراہنا ہے۔
3 فروری کو منعقدہ خصوصی تقریب میں دنیا بھر سے چودہ ممتاز خواتین رہنماؤں کو ان کی جرت، خدمت اور عالمی اثر و رسوخ کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔
منتظمین نے کہا یہ خواتین اس بات کی مثال ہیں کہ جب ایمان، اعلیٰ معیار اور جرت یکجا ہو جائیں تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
اس موقع پر برطانوی نژاد پاکستانی سائرہ پیٹر کو دنیا کی پہلی صوفی اوپرا گلوکارہ کے طور پر خصوصی طور پر مدعو کیا گیا اور انہیں صوفی اوپرا کے نئے فن کی بنیاد رکھنے، عالمی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور نوجوان خواتین کی قیادت سازی میں نمایاں خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے خطاب میں روایتی پاکستانی لباس میں ملبوس سائرہ پیٹر نے کہا کہ وہ صوفیانہ موسیقی کے ذریعے کمزور اور محروم خواتین و بچوں تک امید اور وقار کا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خطاب اور فن نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا اور انہیں بھرپور داد دی گئی۔
سائرہ پیٹر کو ڈائریکٹر این جے آرٹس لندن اور سائرہ آرٹس اکیڈمی لاہور کی بانی کے طور پر بھی سراہا گیا، جہاں وہ محروم پس منظر سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کو اوپیرا کی تربیت دیتی ہیں۔
یہ عالمی سمٹ خواتین کی قیادت، عالمی تعاون اور انسانی وقار کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
