شاہ محمود سمیت قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا رمضان میں احتجاج مؤخر کرنے پر زور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی سمیت مرکزی رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی نئی حکمت عملی کے لیے تجاویز دیتے ہوئے ماہ رمضان کے احترام میں ہر طرح کی احتجاجی تحریک موخر کرنے کے لیے قیادت کے نام خط لکھا ہے۔

یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی اور ملک میں انصاف کی بحالی کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خاص طور پر عمران خان کی صحت (بینائی) کے مسائل اور علاج کی مبینہ عدم دستیابی کے تناظر میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق ملک بھر میں نوجوانوں، یوتھ ونگ، ویمن ونگ، مائنارٹیز ونگ اور دیگر گروپس پر مشتمل ایک الگ فورس بنائی جائے گی۔

یہ فورس پرامن جدوجہد کرے گی اور عمران خان کی رہائی تک فعال رہے گی۔ اس فورس کے لیے ممبرشپ کارڈز بھی جاری کیے جائیں گے۔

اس دوران پارلیمانی پارٹی کی اسلام آباد میں اور کارکنوں کی اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کا سلسلہ مختلف اوقات میں جاری ہے۔

پی ٹی آئی پنجاب کے پارلیمانی رہنما امتیاز احمد شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید و دیگر کوٹ لکھپت جیل میں قید ہمارے رہنماؤں نے اپنی تجاویز پر مشتمل خط قیادت کو لکھا ہے۔ ان کی تجاویز ہم نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نقوی کو بھجوا دی ہیں، کیونکہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے ہماری قیادت نے فیصلوں کا اختیار انہیں دیا ہوا ہے۔‘

ان کے بقول: ’البتہ عمران خان کی صحت کے بارے میں مطالبات سے ہماری پوری جماعت پہلے ہی متفق ہے اور اپنے قائد کے علاج کی سہولیات کے لیے جدوجہد بھی کی جا رہی ہے۔‘

تحریک انصاف کے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کا تحریری خط بھی میڈیا سے شیئیر کیا گیا ہے۔

آٹھ نکات پر مشتمل یہ خط جیل سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رمضان میں احتجاجی تحریک موخر کی جائے۔

پارٹی عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں میں کارروائی کو مزید منظم کرے، پارٹی عہدیداروں، وکلا اور عمران خان کی ہمشیرگان کی ملاقاتوں کو یقینی بنائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک تحفظ آئین پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ بھرپور پارلیمانی سیاست کریں اور پارلیمان میں حکومت کی ناقص کارکردگی کو منظر عام پر لائیں۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی نامزد کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی ملک کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بحث و مباحثے کے بعد اتفاق رائے سے فیصلے کریں۔ ان فیصلوں کا تمام عہدیداروں کو پابند بنایا جائے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مشاورت سے بنائی گئی پارٹی پالیسی کے تحت یہ پیغام پارٹی چیئرمین، سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان میڈیا اور عوام تک پہنچائیں۔

خط کے مطابق: ’پارٹی کو ہر سطح پر منظم اور متحرک بنایا جائے تاکہ ہر قسم کی جدوجہد مؤثر بنائی جا سکے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، سکیورٹی کی ابتر صورت حال، معاشی بدحالی، غربت و مہنگائی اور کرپشن پر حکومتی چشم پوشی کو ہر سطح پر اجاگر کیا جائے۔‘

اسیر رہنماؤں نے عمران خان کے خلاف حالیہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدر مملکت کے شایان شان نہیں، کیونکہ عمران خان باوقار طریقے سے مشکل ترین حالات میں جیل کاٹ رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی متعدد بار یہ رہنما جیل سے میڈیا اور پارٹی قیادت کے نام کھلے خطوط تحریر کر چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *