سکھر جیل سے رہا ہونے کے بعد علی وزیر دوبارہ گرفتار

سابق رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کو پیر کے روز سکھر سینٹرل جیل سے رہائی کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد پیر کو ایڈیشنل رجسٹرار کے حکم نامے کے بعد سکھر جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ہفتے کے روز سندھ ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔

ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 123 اے اور 124 اے کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ 123 اے کے تحت وہ افراد آتے ہیں جو ’مملکت کے قیام پر ملامت کرتے ہیں‘ اور جس سے ’نظریۂ پاکستان پر مضر اثرات پڑنے کا امکان ہو۔‘ اس کے علاوہ 124 اے میں وہ افراد آتے ہیں جو ’حکومت کے خلاف نفرت‘ اور حقارت یا نافرمانی کے لیے اکسائیں۔

علی وزیر کو گذشتہ کئی برس سے بارہا اس جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علی وزیر کی دوبارہ گرفتاری کے حوالے سے ان کے وکیل قادر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں موقف پیش کرتے ہوئے کہا، ’علی وزیر تقریباً ایک سال تک سکھر جیل میں قید رہے۔ جب سکھر میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اس وقت وہ پہلے ہی گڈانی جیل میں زیر حراست تھے۔ ان پر حکومت کے خلاف تقریر کرنے کا الزام تھا۔ جس کے بعد ایک سال کے دوران ان کے خلاف چار سے پانچ ایف آئی آرز درج کی گئیں۔‘

’اب دوبارہ گرفتاری کے بعد کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی گئی، یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ حالانکہ عدالت اس حقیقت سے آگاہ تھی کہ وہ اس وقت سکھر جیل میں قید تھے، لہٰذا ان کا پیش نہ ہونا فطری امر تھا۔

’ہمارا ماننا ہے کہ پراسیکیوشن علی وزیر کو رہا نہیں ہونے دینا چاہتی۔ ان کی رہائی بعض بااثر حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں، کیونکہ وزیرستان کے معاملات پر مؤثر آواز اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والا ایک نمایاں نام علی وزیر ہی ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی دوبارہ گرفتاری کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ میرے نزدیک یہ اقدام انسانی حقوق، شخصی آزادی اور قانونی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

وکیل قادر خان کے بقول، ’اس وقت جو کچھ علی وزیر کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ سندھ میں ہو رہا ہے اور اس میں صوبائی حکومت کا کردار بھی شامل نظر آتا ہے۔‘

اس حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان نادر گبول نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’چونکہ یہ معاملہ قانونی دائرے کے تحت زیر کارروائی ہے، فی الوقت سندھ حکومت کسی مداخلت یا موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہی ہے۔‘

اس سے قبل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا خیرمقدم کیا تھا، جو سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ممکن ہوئی جس میں ان کی مسلسل حراست کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ ادارے کے مطابق بارہا عدالتی احکامات کے باوجود ان کی طویل قید نے قانونی تقاضوں اور شخصی آزادی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا تھا۔

تاہم علی وزیر دسمبر 2020 سے مختلف مقدمات میں بار بار گرفتاریوں کا سامنا کرتے رہے ہیں، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی مسلسل حراست پر پہلے بھی تحفظات ظاہر کر چکی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *