سوشل میڈیا سے یورپ تک: کیا ’آن لائن ڈنکی‘ انسانی سمگلنگ کا نیا راستہ ہے؟

پاکستان سے یورپ اور دیگر خطوں کی جانب غیر قانونی ہجرت، جسے عام طور پر ’ڈنکی‘ کہا جاتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ نئے طریقوں اور راستوں کے ساتھ ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق اب یہ رجحان صرف خطرناک زمینی اور سمندری راستوں تک محدود نہیں رہا بلکہ آن لائن نوکریوں کے نام پر بھی لوگوں کو بیرون ملک لے جا کر استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے ایک انڑویو میں بتایا کہ ’ڈنکی کا نیٹ ورک اب روایتی سمگلنگ سے آگے بڑھ کر ایک منظم عالمی نظام بن چکا ہے جس میں ٹریول ایجنٹس، آن لائن سکیمنگ کمپنیاں اور مختلف ٹرانزٹ ممالک شامل ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں سخت نگرانی کے بعد اب انسانی سمگلرز نئے راستے اور طریقے اختیار کر رہے ہیں جبکہ ایف آئی اے پروفائلنگ، بین الاقوامی تعاون اور جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے اس نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

پاکستانی حکومت نے انسانی سمگلروں کے خلاف حالیہ دنوں میں کئی اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں گرفتاریوں سمیت ان کے اثاثے ضبط کیا جانا بھی شامل ہے۔

جبکہ رواں سال فروری میں سینیٹ میں وزیر داخلہ کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گذشتہ تین برسوں میں کل ایک لاکھ 47 ہزار 842 افراد کو جہاز سے اتارا جا چکا ہے۔ ان تین سالوں میں آف لوڈ کیے جانے والے افراد کی تعداد سال 2025 میں سب سے زیادہ رہی۔

 

ڈنکی کے طریقے کیسے بدل گئے؟

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈنکی ماضی میں زیادہ تر جسمانی مشقت اور خطرناک راستوں پر مشتمل سفر ہوتا تھا جس میں سمندری اور دشوار گزار زمینی راستے شامل ہوتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ انسانی سمگلنگ کے طریقے بدلتے گئے اور اب اس کے نئے انداز سامنے آ رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ کووڈ کے بعد دنیا بھر میں کام کرنے کے طریقوں میں آنے والی تبدیلیوں نے بھی اس رجحان کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ریموٹ ورک اور آن لائن جابز کے بڑھتے رجحان کو بعض جرائم پیشہ گروہوں نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

’آن لائن ڈنکی‘ کیا ہے؟

ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق ’اب ایک نئی اصطلاح آن لائن ڈنکی بھی سامنے آئی ہے، جس میں جنوبی ایشیا کے افراد کو بیرون ملک آن لائن ملازمتوں کے نام پر بلایا جاتا ہے۔

’یہ عمل زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شروع ہوتا ہے جہاں فیس بک یا ٹک ٹاک پر دیے گئے اشتہارات مخصوص پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ خاص طور پر ریسٹورنٹ اور ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری سے وابستہ افراد کو اس بنیاد پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے کہ وہ انگریزی جانتے ہیں اور بیرون ملک کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر یہ کمپنیاں ملازمت اور بہتر آمدنی کا وعدہ کرتی ہیں اور امیدواروں کے سفری دستاویزات تک کا انتظام خود کرتی ہیں۔ تاہم جب متاثرہ افراد وہاں پہنچتے ہیں تو ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں اور انہیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

ایسے ہی ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہری پور سے تعلق رکھنے والے اویس خان بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں آن لائن ملازمت کے متلاشی تھے، مگر اسی جستجو نے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔

سوشل میڈیا پر بیرونِ ملک ملازمت کے اشتہار سے متاثر ہو کر اویس خان نے ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا اور یونان میں نوکری کے جھانسے میں آ کر سات لاکھ روپے ادا کر دیے۔ بعد ازاں ایجنٹ کے کہنے پر انہوں نے جعلی ڈرائیونگ لائسنس بھی بنوا لیا۔

جب معاملہ حکام تک پہنچا تو ایف آئی اے نے انہیں موقع پر گرفتار کر لیا۔

اپنے بیان میں اویس خان نے اعتراف کیا کہ وہ بیرونِ ملک روزگار کے خواب میں ایجنٹ کے دھوکے کا شکار ہوئے اور اسی وجہ سے اس غیر قانونی عمل میں ملوث ہو گئے۔

ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’28 فروری 2026 کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران اویس خان کا لائسنس مشکوک پایا گیا جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نے ایک اور حالیہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ایک پاکستانی نوجوان، جو ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری میں کام کرتا تھا، ایسی ہی ایک کمپنی کے جھانسے میں آ کر بیرون ملک گیا جہاں اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں جب انہیں ڈیپورٹ کر کے پاکستان بھیجا گیا تو ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔‘

کن علاقوں سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں؟

ملک کے بعض اضلاع کو زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ پنجاب کے اضلاع منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ سے یورپ جانے کی کوششوں کے کیسز زیادہ سامنے آتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع مردان، پشاور اور کوہاٹ سے جنوب مشرقی ایشیا جانے کے رجحان کی نشاندہی ہوئی ہے۔

اسی طرح جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے بعض علاقوں سے عمرہ کے ذریعے سفر کرنے والے کیسز بھی سامنے آتے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق موسم بھی اس رجحان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یورپ کی جانب غیر قانونی سفر کے لیےعموماً مارچ سے مئی اور اکتوبر کے مہینے زیادہ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران موسم نسبتاً سازگار ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایئرپورٹس پر سخت نگرانی کے باعث پاکستان سے براہ راست ڈنکی لگانے کے کیسز میں کمی آئی ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کے حوالے سے حکام کا دعویٰ ہے کہ اب یہاں سے ایسے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، تاہم انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اب بھی نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایف آئی اے دستاویزات کی جانچ، مسافروں کی پروفائلنگ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکام کے مطابق گذشتہ سال اس جرم میں ملوث ہونے پر ایف آئی اے کے 180 سے زائد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف بھی کیا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *