بہار کے ایک گمنام گاؤں سے نکل کر کرکٹ کی دنیا میں طوفان برپا کرنے والے ویبھو سوریا ونشی کی کہانی کسی فلمی سکرپٹ سے کم نہیں۔
ایسا بھی نہیں کہ سوریاونشی کی کامیابی وقتی ہو۔ گذشتہ آئی پی ایل میں جھنڈے گاڑنے کے بعد وہ حالیہ سیزن میں بھی اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات راجستھان رائلز کے 15 سالہ بائیں ہاتھ کے بیٹر نے رائل چیلنجرز بینگلور (آر سی بی) کے خلاف ایک اور طوفانی اننگز کھیلی اور جاش ہیزل وڈ جیسے تجربہ کار بولر کی چار گیندوں پر تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 18 رنز سکور کر ڈالے۔
انہوں نے اپنی ففٹی صرف 15 گیندوں پر مکمل کی۔ اس سے قبل وہ 30 مارچ کو چینئی سپر کنگز کے خلاف بھی 15 گیندوں پر نصف سینچری بنا چکے ہیں۔
کل کے میچ میں انہوں نے 26 گیندوں پر 78 رنز بنائے اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
سوریاونشی نے ابھی تک آئی پی ایل میں 11 اننگز کھیلی ہیں، جن میں وہ 41 کی اوسط سے 452 رنز بنا چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا سٹرائیک ریٹ 229 رنز ہے۔
انہیں آئی پی ایل کی تاریخ میں کم عمر ترین سینچری بنانے والے بلےباز کا بھی اعزاز حاصل ہے، جو انہوں نے گذشتہ سال حاصل کیا تھا۔
انڈین سیاست دان ششی تھرور بھی ان کی بلےبازی کے مداح ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ سوریاونشی ایک نسل کے دوران آنے والا ٹیلنٹ ہیں۔
’10 کروڑ الگ رکھ دیں‘
صرف 13 سال کی عمر میں جب راجستھان رائلز کے ٹرائلز میں وہ میدان میں اترے، تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑکا انڈیا کی کرکٹ کا مستقبل بدلنے والا ہے۔
راجستھان رائلز کے زوبین بھروچا نے جب مینیجمنٹ سے کہا کہ ’اس لڑکے کے لیے 10 کروڑ روپے الگ رکھ دیں‘ تو سب نے اسے دیوانگی سمجھا۔
لیکن جب سوریاونشی نے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی گیندوں کو باؤنڈری سے باہر پھینکنا شروع کیا تو سب کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔
بھروچا کہتے ہیں کہ ویبھو کا کھیل دیکھ کر انہیں یشسوی جیسوال اور سنجو سیمسن کی پہلی جھلک یاد آ گئی۔
وہ ٹرائلز کے دوران اتنی آسانی سے گیند کو چھوڑ رہے تھے جیسے وہ کوئی عام رفتار ہو اور پھر ایک ہی بال پر ایسا چھکا مارا کہ 150 کلومیٹر کی رفتار بھی بونی لگنے لگی۔
سوریاونشی کا تعلق بہار کے ایک چھوٹے سے قصبے تاجپور سے ہے جہاں اکثر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے والد سنجیو سوریا ونشی خود بھی کرکٹر بننا چاہتے تھے، لیکن انڈیا کی کرکٹ اتھارٹی سے بہار کا الحاق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خواب ادھورا رہ گیا۔
سنجیو نے ممبئی میں باؤنسر اور شپنگ یارڈز میں کام کر کے گزارہ کیا، لیکن جب ان کے منجھلے بیٹے ویبھو نے چار سال کی عمر میں پہلی بار بلا تھاما تو سنجیو نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے بیٹے کا خواب ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
تربیت کے لیے 200 کلومیٹر روزانہ کا سفر
سوریاونشی کی تربیت کے لیے ان کے والد نے دن رات ایک کر دیے۔ وہ سوریاونشی کو روزانہ اپنی پرانی گاڑی میں تاجپور سے پٹنہ لے جاتے تھے، جو 200 کلومیٹر کا صبر آزما سفر تھا۔
جنی ایکسٹ اکیڈمی کے منیش اوجھا بتاتے ہیں کہ سوریاونشی روزانہ کم از کم 600 گیندیں کھیلتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی دفاعی کھیل کی مشق نہیں کی، ان کا سارا زور صرف اٹیک کرنے پر تھا۔
ان کے آئیڈیل ویسٹ انڈیز کے عظیم بلےباز برائن لارا ہیں جن کی ویڈیوز یوٹیوب پر دیکھ کر وہ بڑے ہوئے ہیں۔
ان کی محنت کا ثمر جلد ہی مل گیا۔ آئی پی ایل 2025 میں وہ گجرات ٹائٹنز کے خلاف صرف 14 سال کی عمر میں سینچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔
اس کے بعد انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے صرف 80 گیندوں پر 175 رنز کی ایسی اننگز کھیلی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے 15 چھکے مار کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
سوریاونشی کی شخصیت میں جہاں ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی سنجیدگی ہے، وہیں ایک نوعمر لڑکے کی شرارتیں بھی موجود ہیں اور انہیں مٹھائی کھانے کا بےحد شوق ہے۔ تاہم اس سے پہلے وہ کوچ سے اجازت لے لیتے ہیں۔
تاجپور کے اس نوجوان نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو وسائل کی کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
آج انڈیا کے اس نئے سپر سٹار کی کہانی ہر اس بچے کے لیے مشعلِ راہ ہے جو گمنام گلیوں سے نکل کر آسمان چھونے کا خواب دیکھتا ہے۔
