خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے دردیال میں واقع تقریباً دو سو سال پرانا لکڑی کا حجرہ آج بھی ماضی کی زندہ گواہی کے طور پر موجود ہے۔ یہ عمارت روایتی پشتون معاشرت، جرگے کی روایت، مہمان نوازی اور اجتماعی زندگی کا اہم مرکز رہی ہے۔ مقامی لوگ اسے ’شیخانوں کا حجرہ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
حجرے کے موجودہ مالک خادم شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’اس حجرے کی عمر دو سو برس سے زیادہ ہے اور اسے اب تک اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق ’ماضی میں یہ حجرہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز ہوتا تھا۔
’ہمارے اس حجرے میں پہلے مشران شام کے وقت اکٹھے ہوتے تھے۔ سردیوں میں اندر بنی انگیٹھی میں آگ جلائی جاتی تھی اور سب اس کے گرد بیٹھتے تھے۔ اس وقت ہوٹل نہیں ہوتے تھے، تو خدائی مہمان بھی یہیں آتے تھے۔ یہاں جرگے ہوتے، غمی خوشی کی تقریبات منعقد ہوتیں اور اہم فیصلے کیے جاتے تھے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خادم شاہ کا کہنا تھا کہ ’حجرے کی تعمیر میں زیادہ تر بانڑئی لکڑی استعمال کی گئی ہے اور ستون، چھت اور شہتیر سب لکڑی کے ہیں۔
’اس وقت ڈی پی سی کی جگہ بھی لکڑی استعمال ہوتی تھی۔ ہم نے اس حجرے کو آج تک نہ رنگ کیا ہے اور نہ ہی اس کی لکڑی تبدیل کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ اپنے اصل طرز پر محفوظ رہے۔‘
خادم شاہ نے مزید بتایا کہ لکڑی کے ستونوں پر گلکاری مکمل کرنے میں چھ ماہ لگے تھے۔
’ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ دو کاریگر اس پر کام کرتے تھے اور ان کے ساتھ ایک بہن بھی تھی جو ان کے لیے کھانا پکاتی تھی۔ اس زمانے میں دیسی گھی اور مرغی کا استعمال ہوتا تھا۔ چھ ماہ تک مسلسل محنت کے بعد یہ نقش و نگار مکمل ہوئے۔‘
خادم شاہ کے مطابق ماضی میں حجرہ سیکھنے اور اجتماعی مشاورت کی جگہ بھی تھا۔
’پہلے لوگ یہاں زمینداری، کھیتی باڑی اور گائے بھینسوں کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ آج کل اگر کوئی اکیلا آتا ہے تو موبائل نکال لیتا ہے، لیکن جب دو یا زیادہ لوگ اکٹھے ہوں تو پھر گپ شپ شروع ہو جاتی ہے۔‘
مقامی نوجوان وقار احمد کا انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک بار یہاں ضرور آتے ہیں۔
’یہاں مجھے دلی سکون ملتا ہے۔ علاقے کے مشران کے ساتھ بیٹھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور نوجوان زیادہ تر فیس بک اور موبائل میں مصروف رہتے ہیں، لیکن حجرہ ہمیں اپنی تہذیب اور روایات سے جوڑتا ہے۔‘
ایک اور نوجوان دلدار خان کے مطابق یہ حجرہ آج بھی زندہ روایت ہے۔
’ہم روزانہ شام کو یہاں بیٹھتے ہیں، گپ شپ اور کبھی کبھار مشاعرہ بھی ہوتا ہے۔ آج کل ایسے حجرے کم رہ گئے ہیں اور نوجوان نسل کو ان کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔ ہمیں یہاں بیٹھ کر اپنے مشران سے تہذیب و تمدن سیکھنا چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ایک درس گاہ ہے۔‘
کنکریٹ اور جدید طرزِ تعمیر کے اس دور میں ایسے تاریخی حجرے تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دردیال کا یہ قدیم حجرہ آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ مقامی خاندان اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ حجرہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ثقافتی ورثہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ اجتماعی روایت اور شناخت کا حصہ ہوتا ہے، جسے محفوظ رکھنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
