پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد رواں ہفتے عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا رہا۔ جمعے کی شب سے اتوار کی صبح تک نظریں اسی شہر پر جمی رہیں، جہاں دو دیرینہ حریف امریکہ اور ایران آمنے سامنے تھے۔
پس منظر میں جنگ کی گونج تھی، بداعتمادی کی دھند اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی ایک گہری فضا۔
تقریباً 40 دنوں کی شدید لڑائی، ہزاروں جانوں کے ضیاع اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک براہ راست مذاکرات کی میز پر آئے۔
ایسے میں کسی فوری اور حتمی معاہدے کی توقع شاید حقیقت پسندانہ نہ تھی لیکن یہ ملاقات خود ایک بڑی پیش رفت ضرور تھی۔
بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس میڈیا کے سامنے آئے تو ان کے الفاظ مختصر مگر معنی خیز تھے۔ ’کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔‘
تاہم جاتے جاتے انہوں نے ایک اور جملہ کہا، ایک ایسا جملہ جو سفارت کاری کی باریکیوں کو سمجھنے والوں کے لیے اہم تھا ہم ایک سادہ مگر حتمی اور بہترین پیشکش چھوڑ کر جا رہے ہیں، اب دیکھنا ہے ایران کیا فیصلہ کرتا ہے۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ سامنے رکھنے کے بعد واپس جا رہے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت میں 21 گھنٹے کے مذاکرات کے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا ’ہم یہاں سے ایک انتہائی سادہ تجویز، افہام و تفہیم کے ایک طریقہ کار کے ساتھ جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘
وینس نے مزید کہا کہ بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔
یہ ’بہترین پیشکش‘ کیا ہے؟ اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی مگر اس اشارے نے یہ تاثر دیا کہ مذاکرات مکمل ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور انتظار بھی ایک حکمت عملی۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا جملہ اس پورے عمل کا نچوڑ بن کر ابھرا کہ ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔‘
یہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک اصول ہے۔ ایک ایسا اصول جو جنگ اور امن کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔
ان کے مطابق اختلافات اپنی جگہ لیکن رابطے کا تسلسل ہی امید کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
ان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ وہی پرانے اور پیچیدہ مسائل رہے، ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں طاقت کا توازن، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات۔ یہ وہ گتھیاں ہیں جو ایک نشست میں نہیں سلجھ سکتیں، بلکہ وقت، اعتماد اور مسلسل مکالمے کا تقاضا کرتی ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اپنی پریس کانفرنس میں امید ظاہر کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جاری رکھیں گے۔
کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم رہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان روابط اور مذاکرات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی اپنا یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس تمام منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔
اسلام آباد نے نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک سنجیدہ اور متوازن ثالث کے طور پر خود کو منوایا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار کی جانب سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل اس بات کا اظہار تھی کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ امن کی کوششوں میں ایک فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگرچہ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا مگر یہ عمل ناکامی بھی نہیں۔
سفارت کاری میں بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ دروازے بند نہ ہوں، رابطے منقطع نہ ہوں اور اختلافات کے باوجود بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات شاید کسی فوری نتیجے تک تو نہ پہنچ سکے ہوں لیکن انہوں نے ایک نئی راہ ضرور کھولی ہے۔
ایک ایسی راہ جہاں الفاظ ہتھیاروں کی جگہ لے سکتے ہیں اور جہاں خاموشی کے بعد بھی مکالمہ ممکن رہتا ہے۔
اور شاید یہی سفارت کاری کی اصل روح ہے، یہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
