سفارتی حل کا آخری موقع: ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں جاری

ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں شروع ہوگئے، جنہیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سفارتی حل کا ممکنہ آخری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، جبکہ امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کا بڑا بیڑا تعینات کر رکھا ہے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھے گا، حالانکہ گذشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی حملوں میں اس کی کئی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات سے قبل خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں، جس سے پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کے بقول ایسی جنگ ’کسی کے لیے فتح نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہوگی۔‘

یہ مذاکرات گذشتہ جون کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تیسرا رابطہ ہیں اور ایک بار پھر عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی عمانی حکام سے ملاقات کی، جس کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر یورینیم افزودگی روک دے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سمیت خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت پر بھی بات کرے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایران اس وقت افزودگی نہیں کر رہا، تاہم وہ اپنی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کے بعد متاثرہ تنصیبات تک عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رسائی بھی محدود کر دی ہے۔

ادھر ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات نے خطے میں نئی جنگ کے اندیشے بڑھا دیے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں وہ امریکی اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔

واشنگٹن ایران کے اندر ایٹمی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ پہنچ میں ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔‘

روئٹرز نے اتوار کو خبر دی تھی کہ تہران امریکی حملے سے بچنے کی کوشش میں، پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے نئی مراعات کی پیشکش کر رہا ہے۔

تاہم، ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، یہاں تک کہ تباہ کن امریکی پابندیوں سے ریلیف کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے بھی۔

ایران کے اندر، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنے 36 سالہ دور کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے، جہاں معیشت سخت پابندیوں کے بوجھ تلے جدوجہد کر رہی ہے اور جنوری میں بڑے ہنگاموں اور خونی کریک ڈاؤن کے بعد نئے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی بھی مذاکرات کے دوران جنیوا میں موجودگی متوقع ہے تاکہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کر سکیں، جیسا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *