ریاض میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق نے اتوار کو کہا ہے کہ سعودی پاکستان اقتصادی فریم ورک کا مقصد پاکستان کو ٹریڈ سرپلس ملک بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک سعودی پاکستان اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔‘
’دونوں جانب کی ٹیموں کو اس منصوبے کی ٹیاری کے لیے 90 سے 100 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف اگلے 14 سالوں میں پاکستان کو ایک ٹریڈ سرپلس ملک بنانا ہے۔‘
عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ’یہ منصوبہ تقریباً تیار ہے اور ہمیں امید ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقعے پر اس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ردعمل میں تہران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملے جاری ہیں۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کی زد میں سعودی عرب بھی آیا ہے۔
پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 12 مارچ کو سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔
اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد وزیراعظم محمد بن سلمان کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے اس دورے کا بنیادی مقصد خطے کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرنا تھا۔
