ریاض میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق نے اتوار کو کہا کہ اگر سعودی عرب کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہمیشہ مملکت کی مدد کے لیے آئے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ردعمل میں تہران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملے جاری ہیں۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کی زد میں سعودی عرب بھی آیا ہے۔
پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 12 مارچ کو سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔
اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد وزیراعظم محمد بن سلمان کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے اس دورے کا بنیادی مقصد خطے کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرنا تھا۔
انہوں نے کہا: ’سب سے اہم بات یہ کہ اس موقعے پر پاکستان کو مشکل وقت میں مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کا موقع ملا، لہٰذا یہی اس ملاقات کا بنیادی مقصد اور خلاصہ تھا جو وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہوئی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ ایک ہنگامی ملاقات تھی؟ پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’یہ دورہ اس تنازعے کے باعث کیا گیا جو اس خطے میں شروع ہوا ہے اور جس کے اثرات پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تنازعے کا مرکزی محور ایران ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے اثرات دوسرے علاقائی ممالک پر بھی پڑے ہیں جن میں مملکتِ سعودی عرب بھی شامل ہے اور بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس بات پر توجہ دی جائے کہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ہم کس طرح علاقائی سطح پر مزید کشیدگی کو روک سکتے ہیں، کیونکہ یہ خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جب بھی مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا تو پاکستان اس کی مدد کے لیے آئے گا۔ ہم ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔‘
پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کے تناظر میں پاکستانی سفیر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے فوجی دستے اور سازوسامان بھیجنے پر غور کر رہا ہے؟‘ تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
احمد فاروق کے مطابق: ’یہ بنیادی طور پر تکنیکی نوعیت کی گفتگو ہوتی ہے جو دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان ہوتی ہے۔ میں اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘
تاہم انہوں نے کہا: ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی قیادت نے مملکت کی قیادت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔‘
حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ایرانی قیادت سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ’اس تنازعے کے آغاز سے ہی پاکستان کی قیادت متحرک رہی ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار رواں ماہ کے آغاز میں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی اسلام آباد اور ریاض کے درمیان موجود دفاعی معاہدے کے حوالے سے یاد دہانی کروا دی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئیں۔
انٹرویو کے دوران پاکستانی سفیر نے کہا: ’ہمارا پیغام اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ ہے کہ اس تنازعے کو مزید بڑھنے سے روکنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری کریں اور جو مسائل اس تنازع کا سبب بنے ہیں ان کا حل صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، لہٰذا ہم تمام متعلقہ ممالک کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔‘
سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی صورت حال کیا ہے اور اس حوالے سے سفارت خانے کے اقدامات سے متعلق پاکستانی سفیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر ’سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے اور جدہ میں قونصل خانے دونوں نے چوبیس گھنٹے فعال سہولت مراکز قائم کیے ہیں جہاں عوام کسی بھی مدد کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے اطمینان دلایا کہ سعودی عرب میں صورت حال ’مستحکم‘ ہے اور ’ملک میں کسی قسم کی افراتفری نہیں ہے۔‘
بقول پاکستانی سفیر: بازار کھلے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی کوئی قلت نہیں ہے۔ شہری کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہ ہوں البتہ سوشل میڈیا کے حوالے سے مقامی قوانین کی پابندی لازمی کریں۔‘
