سعودی عرب میں درجنوں ڈرونز، عراق میں امریکی طیارہ تباہ

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 14ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس


13ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


صبح نو بج کر 15 منٹ: امریکہ کے ایران میں چھ ہزار اہداف پر حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی افواج نے آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران میں 6000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اس میں تقریباً 60 بحری جہاز اور 30 ​​بارودی سرنگیں شامل تھیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔

دیگر اہداف میں ایران میں کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں کی تیاری کی سہولیات، بیلسٹک میزائل سائٹس، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج نے امریکہ اسرائیل مشترکہ آپریشنز کے آغاز پر نادانستہ طور پر ایران میں ایک سکول کو فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا ہو گا، لیکن وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔


صبح آٹھ بج کر 50 منٹ: ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ساتھ جھڑپ

اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جس کی صدارت اس ماہ امریکہ کر رہا ہے، روس اور چین نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے لیے قائم کمیٹی پر بحث رکوانے کی ناکام کوشش کی۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ روس اور چین کی کوشش دو کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔

 

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ماسکو اور بیجنگ پر الزام لگایا کہ وہ نام نہاد 1737 کمیٹی کا کام روک کر تہران کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس دونوں نہیں چاہتے کہ پابندیوں والی کمیٹی فعال رہے’کیوں کہ وہ اپنے ساتھی ایران کو بچانا چاہتے ہیں۔‘

 

اقوام متحدہ میں روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے مبینہ منصوبوں کے حوالے سے خوف و ہراس‘ پھیلا رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ جوہری سرگرمیوں کے نگران عالمی ادارے نے ان مبینہ ایرانی منصوبوں کی کبھی تصدیق نہیں کی۔

 

چین کے نمائندے فو کانگ نے واشنگٹن کو ایرانی ایٹمی بحران کا ’محرک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ’مذاکرات کے عمل کے دوران ایران کے خلاف طاقت کے کھلے استعمال کا سہارا لیا، جس سے سفارتی کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔‘

 

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ’ہمیشہ سے مکمل طور پر پرامن رہا ہے‘ اور تہران اپنے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کرے گا۔


صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ: امریکی طیارہ عراق میں گر کر تباہ

امریکی فوج نے جمعرات کو کہا کہ فضا میں طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک امریکی کے سی 135 طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جب کہ دوسرا طیارہ بحفاظت زمین پر اتر گیا۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی ذمے دار ہے، ایک بیان میں کہا ’ایک طیارہ مغربی عراق میں گر گیا جبکہ دوسرا بحفاظت اتر گیا۔ یہ نہ دشمن کی فائرنگ کی وجہ سے ہوا اور نہ ہی اپنی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے۔‘

 

تاہم ایران کی فوج نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ عراق میں ایک اتحادی گروپ نے میزائل سے یہ طیارہ مار گرایا، جس میں اس کے تمام عملے کے ارکان مارے گئے۔ اے ایف پی


صبح سات بج کر 30 منٹ: سعودی حدود میں 28 ڈرون تباہ

سعودی وزارت دفاع نے جمعے کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے درجنوں ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

 

وزارت کے ایک ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کیا ’سعودی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد 12 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

 

قبل ازیں حکام نے کم از کم 16 مزید ڈرونز مار گرانے کی بھی اطلاع دی تھی۔


صبح سات بجے: عراق میں حملے کے دوران فرانسیسی فوجی کی موت

فرانس کے صدر ایمانویل میکروں نے جمعے کو کہا کہ عراق کے خودمختار کردستان خطے میں کیے گئے حملے میں ایک فرانسیسی فوجی جان سے گیا۔

اس طرح فرانسیسی صدر نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فرانسیسی فوج کی پہلی موت کی تصدیق کی۔


صبح چھ بج کر 45 منٹ: ایران کے اسرائیل پر حملوں کی نئی لہر

اسرائیل نے جمعے کو کہا کہ ایران نے اسرائیل کی طرف میزائلوں کی کئی لہریں داغیں۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک کے شمال میں دو افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر لکھا، ’کچھ دیر پہلے آئی ڈی ایف نے ایران سے ریاست اسرائیل کے علاقے کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔ خطرے کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کام کر رہے ہیں۔‘


صبح چھ بج کر 40 منٹ: امریکہ کی روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ نے کئی ممالک کو ممنوعہ روسی تیل اور پیٹرولیم خریدنے کی اجازت دے دی ہے جو اس وقت سمندر میں بحری جہازوں پر لدا ہوا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کے دوران ’انرجی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔ یہ اجازت 11 اپریل تک رہے گی۔

بیسنٹ نے کہا ’یہ ایک مختصر طور پر تیار کیا گیا عارضی اقدام ہے جو صرف پہلے سے ٹرانزٹ میں موجود تیل پر لاگو ہوتا ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ملے گا۔‘

جمعرات کو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر واپس آگئیں اور خلیج میں مزید تین ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سٹاک مارکیٹ گر گئی۔

بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ اور عارضی رکاوٹ ہے جس کا طویل مدت میں ہماری معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔‘

اس سے پہلے بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت ’جلد فوجی طور پر‘ شروع کر دے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *