سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ منگل کی صبح دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز کے حملے سے چھوٹے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ دارالحکومت ریاض اور الخرج شہر کے قریب نصف درجن سے زیادہ ڈرونز کو روکا گیا ہے۔
اس سے قبل منگل کو علی الصبح جاری ہونے والے سعودی وزارت دفاع کے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ’ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا، ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ، حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکہ کے سفارت خانے کو دو مشتبہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکہ ’جلد‘ جوابی کارروائی کرے گا۔
المتحدث الرسمي لوزارة الدفاع: تعرّضت السفارة الأمريكية في الرياض لهجوم بمسيّرتين بحسب التقديرات الأولية، ونتج عن ذلك حريق محدود وأضرار مادية بسيطة في المبنى. pic.twitter.com/YuCukrePkH
— وزارة الدفاع (@modgovksa) March 3, 2026
نیوز نیشن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا‘ کہ امریکہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گا۔
دوسری طرف اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر 6 مارچ (جمعے) تک تمام ویزا اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ایک بیان میں سفارت خانے نے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے پر بھی ہوتا ہے اور متاثرہ درخواست دہندگان کو اس کے مطابق آگاہ کیا جائے گا۔
دو عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کے ارد گرد فائر انجن دیکھے۔
Due to the current security situation, the U.S. Embassy in Islamabad and the Consulates General in Lahore and Karachi have cancelled all visa appointments through Friday, March 6.
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) March 3, 2026
قبل ازیں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی مشن کی عمارت پر دھواں دیکھا تھا اور سعودی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارت خانے کے سفارتی کوارٹر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔
سعودی فوج کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی فضائی دفاع نے حملے میں ریاض کے سفارتی کوارٹر کو نشانہ بنانے والے چار ڈرونز کو روکا۔
اس کے نتیجے میں امریکی سفارت خانے نے جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جگہ جگہ پناہ گاہیں اور غیر ضروری سفر کو محدود کرنے کے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔
سعودی عرب میں یہ حملے خلیجی ریاستوں میں میزائلوں اور ڈرونز کی لہر کے ساتھ موافق ہیں جس میں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ ایران سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں سے نمٹ رہی ہے
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قطر کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے منگل کی صبح سویرے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکا۔
تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے بھر میں حملے شروع کیے۔
ایران کے فوجیوں نے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں کے علاوہ تیل کے امیر علاقے میں فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق پیر کو کویت سٹی کے امریکی سفارت خانے سے دھواں نکلا۔
بعد میں کویت میں مقیم ایک سفارت کار اور ایک مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ سفارت خانے کو کئی ڈرونز سے نقصان پہنچا ہے، جب کہ کویت میں مقیم ایک دوسرے سفارت کار نے بتایا کہ عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔
