روسی اپوزیشن لیڈر نوالنی کی موت سے منسوب مینڈک سے حاصل زہر کتنا مہلک؟

ایپی بیٹیڈین وہ نہایت طاقت ور زہر ہے جسے برطانیہ نے الیکسی نوالنی کی موت سے جوڑا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ زہر مورفین سے 100 گنا زیادہ طاقت رکھتا ہے۔

یہ نہایت زہریلا نکوٹین جیسا مرکب ایپی پیڈوبیٹیز نسل کے زہریلے مینڈکوں سے حاصل ہوتا ہے جو صرف شمالی جنوبی امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ ایمفیبین (امفیبیا) روس کے مقامی جان دار نہیں۔ اینٹونیز پوائزن ایرو فراگ اور فینٹاسمل پوائزن فراگ جیسے نمایاں رنگوں والے ان مینڈکوں کی جلد پر یہی مادہ خارج ہوتا ہے۔

محققین کا نظریہ ہے کہ مذکورہ مینڈک یہ زہر اپنی غذا کے ذریعے حاصل کرتے ہیں کیونکہ قید میں پیدا کیے گئے مینڈکوں میں یہ مادہ موجود نہیں ہوتا اور جنگلی آبادیوں میں بھی اس کی مقدار مختلف علاقوں کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔

ایپی بیٹیڈین کو درد کے علاج اور پھیپھڑوں کی تکلیف دہ سوزش کی بیماریوں جیسے دمہ اور پلمونری فائبروسس سے نجات کے لیے بھی تحقیق میں استعمال کیا گیا ہے۔

تاہم یہ مورفین سے تقریباً 100 گنا زیادہ طاقت ور ہے اور اس کے شدید زہریلے پن کے باعث طبی استعمال میں شامل نہیں کیا جاتا۔

ماحولیات میں زہریلے مادوں کے ماہر پروفیسر الاسٹر ہے نے کہا کہ ایپی بیٹیڈین اعصابی عمل کو روکنے کے لیے مرکزی اور پردی اعصابی نظام میں نکوٹینک ریسیپٹرز کو بلاک کرتا ہے۔

لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر الاسٹر (ایمیریٹس) نے مزید کہا ’ان ریسیپٹرز کو بلاک کرنے کا نتیجہ پٹھوں کے فالج اور سانس کے نظام کے فالج کی صورت میں نکلتا ہے۔

’یوں سانس رک جاتا ہے اور زہر کا شکار شخص دم گھٹنے سے مر جاتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر الاسٹر نے کہا کہ کسی شخص کے خون میں اس زہر کی موجودگی ’براہ راست دیے جانے‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ’ایپی بیٹیڈین کی زہریلی تاثیر بعض دیگر ادویات کے ساتھ ایک ہی وقت میں دیے جانے سے مزید بڑھ سکتی ہے اور ان امتزاجات پر تحقیق بھی کی گئی ہے۔

’اگر واقعی ایپی بیٹیڈین کا استعمال الیکسی ناوالنی کو زہر دینے کے لیے ہوا ہے تو یہ 1972  کے بائیولوجیکل اینڈ ٹاکسن ویپنز کنونشن (BTWC) اور1993  کے کیمیکل ویپنز کنونشن (CWC) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

’سوویت یونین BTWC کا شریک بانی تھا۔ روس BTWC اور CWC دونوں کا دستخط کنندہ ہے۔

’اگر روس نے نوالنی کو زہر دینے کے لیے ایپی بیٹیڈین استعمال کیا ہے تو اس نے دو ایسے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے جنہیں وہ برقرار رکھنے کی قسم کھا چکا ہے۔‘

ایپی بیٹیڈین کا سراغ گیس کرومیٹوگرافی اور ماس سپیکٹرو میٹری کے امتزاج سے لگایا جا سکتا ہے۔

گیس کرومیٹوگرافی مطلوبہ مرکبات کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے جبکہ ماس سپیکٹرو میٹری کیمیائی مادّوں کو مخصوص ذرات میں توڑ کر ان کی منفرد شناختی فنگر پرنٹ تیار کرتی ہے، جس کے ذریعے مادہ باآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *