ایک لڑکی تھی، کمزور، دھان پان سی، بہت نازک، انتہائی خوبصورت، ٹوٹ کے، شدید چاہ کے محبت کرنے والی، اتنی زیادہ محبت کہ جس سے وہ پیار کرے، اس شخص کو، میرا خیال ہے، دنیا میں کچھ نہیں چاہیے ہو گا۔
اس لڑکی کو آئی بی ایس نما کوئی عارضہ بھی تھا، آنتوں کی بیماری جو نامعلوم وجوہات سے ہوتی ہے، اور وہ لڑکی اپنی تمام تر محبتیں نچھاور کر کے جب تھک گئی تو وہ مر گئی۔
کچھ لوگوں کے مطابق اس نے خودکشی کر لی۔ وہ لڑکی رتی جناح تھی۔
رتی جناح پہ اس سے پہلے جتنا کچھ چھپا، اس میں وہ شدت نہیں تھی، یعنی ہم یہ اندازہ نہیں کر سکتے تھے کہ رتی کی زندگی کیسی ہو گی، رتی کے محسوسات، جذبات کیا ہوں گے۔ ہمیں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور مکینکل صورت میں ملتی تھی، جیسے، تاریخ کے لفظ، جو بے حس ہوتے ہیں، جن میں شدت، کیفیت بیان نہیں ہوا کرتی۔
ہمیں رتی کے کچھ خط ملتے تھے، یا پھر دوسرے لوگوں کی بتائی گئی کچھ باتیں تھیں، قصے تھے، جو انہوں نے رتی جناح کے بارے میں کہے، لیکن یہ مکمل ایک باربط اور واقعے سے انصاف کرتا ہوا حقیقت نامہ ہے۔
اس ناول کے بعد بس یہ ہوا کہ میں باقاعدہ اس کے اثر میں آ گیا اور نکل نہیں پا رہا، آج کل کی زبان میں بات کریں تو بہت ٹراماٹائزنگ اثر ہے۔
یعنی ناول کو جب آپ محسوس کریں، اس سے ریلیٹ کر سکیں، یا اس ناول میں موجود کیفیات میں پھنس جائیں، تو میرا خیال ہے کہ وہ ناول کی کامیابی ہوتی ہے۔
اس ناول میں ظفر سید نے جو ٹیکنیک استعمال کی ہے وہ یہ کہ ہر باب کا راوی الگ ہے اور بات کرنے میں اس کی زبان اور کیمرے کے اینگل کا بھی دھیان رکھا ہے۔ یعنی ایک باب کا راوی ہوٹل ہے، ایک بیان رتی کی بلی کا ہے، ایک چیپٹر گاندھی جی سے روایت ہے، ایک قصہ رتی کے باپ ڈنشا پٹیٹ کی بہن ہیما بائی کی زبانی ہے، تو اس طرح مختلف ابواب میں تقسیم یہ ناول مختصر ہے، لیکن اس قدر تاثیر رکھنے والا ہے کہ یہ آپ کو اپنے ٹرانس میں لے لیتا ہے۔
جو مزے کی بات ہے وہ یہ کہ قائد اعظم کو کہیں قصوروار ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ دانستہ یا غیر دانستہ طور پہ، وہ الگ بات لیکن اس ناول کو پڑھنے کے بعد آپ حکم نہیں لگا سکتے کہ قصور اس ٹریجیڈی میں کس کا تھا، رتی کا یا قائد اعظم محمد علی جناح کا؟
اس ناول کے مطابق قائد اعظم نے جو تین کتے رکھے ہوئے تھے، وہ سب انہوں نے رتی کی وفات کے بعد پالے۔ رتی کی موت والا باب بہت پگھلا دینے والا ہے بالخصوص جب زندگی میں شاید پہلی اور آخری بار قائداعظم کئی افراد کی موجودگی میں پھوٹ پھوٹ کے روئے۔
رتی کے بعد قائد اعظم وہ ہیں جو ہمیں اب نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے قائد اعظم ایک باقاعدہ ہنس مکھ طیبعت والے اور اپنے فقروں سے دل جیت لینے والے آدمی تھے اور یہ سب ہمیں اس ناول کے بعد پتہ لگتا ہے، اور جس کے تاریخی طور پہ ثبوت موجود ہیں۔
تو اس ناول نے قائد اعظم پہ کوئی چیز مسلط نہیں کی، لیکن اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ رتی کے ساتھ جناح کی موجودگی اور ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے کیا کچھ ہوا۔
رتی کا کیریکٹر اگر آپ دیکھیں تو وہ ایسا ہے جو ہر چیز میں ایکسٹریمسٹ ہے۔ وہ پیار کرتا ہے تو ٹوٹ کے کرتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تو کسی کا خیال نہیں کرتا۔ جیسے اس کی اپنی بیٹی، جس کا آفیشل نام بھی نو سال بعد رکھا گیا، جسے قائد صوفیہ کہتے تھے اور رتی مختلف ناموں سے پکارتی کرتی تھیں۔
ایک طویل عرصے کے بعد جب وہ بیٹی اپنی نانی کے پاس گئی، رتی کی موت کے بعد، تو اس نے اپنی نانی کا نام ایڈاپٹ کیا، جو کہ دینا جناح تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تو اب ایک طرف بیٹی ہے جو شدید کیئرلیسنس کا شکار ہے، اور ایک طرف جانور ہیں رتی کے، جو تعداد میں چھ سات ہیں، اور جن کے نام رکھنے میں بھی الگ طرح نکالی گئی ہے جیسے ایک کتے کا نام ’لوفر المُلک‘ ہے۔ جہاں وہ جاتی ہیں ان کے ساتھ وہ سب لد کے جاتے ہیں، ٹرینوں میں ان کے لیے الگ ملازم ہوتے ہیں، پورا تام جھام ہر جگہ برابر ہوتا ہے۔
پھر اس میں فاطمہ جناح کا کردار ہے، بالخصوص وہ کھچاؤ جو ان کے اور رتی کے درمیان موجود تھا، وہ بہت غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والے کو سمجھ آ جاتا ہے۔
تو کُل ملا کے یہ ناول آپ کو، یوں سمجھیے کہ ایسے اینگل پہ کھڑا کر دیتا ہے جہاں سے آپ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ جناح کی سافٹ سائڈ کیا تھی، جناح کیسے اس رشتے میں تلخ ہوئے، رتی کیا سوچتی تھیں، کیوں انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کی، اور ایک ایسی لڑکی جو جانِ محفل تھی، جسے ہندوستان کی بلبل کہا جاتا تھا، جس سے بہتر پہناوا انگریزوں کی خواتین کا بھی نہیں تھا، وہ اس قدر المناک انجام تک کیسے پہنچی، اور یہ جو قائد اعظم کا ورژن اب ہمارے سامنے ہے، اس کے پیچھے کیا حالات تھے۔
تو میرا خیال ہے ہر پاکستانی کے لیے اور ہر محبت کرنے والے کے لیے یہ ناول پڑھنا بہت بہت ضروری ہے، میری گارنٹی ہے کہ اس کے اثر سے آپ بہت عرصہ نکل نہیں سکیں گے۔
(ناول اس لنک پر دستیاب ہے۔)
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
