راجپال یادو سے تعزیت کرنی ہے یا مبارک باد دینی ہے؟

فلم انڈسٹری میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو سکرین پر آتے ہی دل ہلکا کر دیتے ہیں۔ نہ ہیرو، نہ ولن، بس ایک ایسا کردار جو سین کو زندہ کر دے۔ راجپال یادو بھی انہی چہروں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے ہمیں بے تحاشا ہنسایا، ان کا چہرہ، بولنے کا انداز اور حرکتیں خودکار کامیڈی ہیں۔ بغیر کوشش، وہ کچھ بھی کریں ہم ہنسنے کے لیے پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

 

کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ تہاڑ جیل پہنچ جائیں گے۔ سکرپٹ سے باہر کا ایک سین آ گیا، دیکھتے ہیں وہ کیسے نبھاتے ہیں۔ 

 

یہ کہانی 2010 میں شروع ہوئی جب انہوں نے اپنی پہلی ڈائریکشن فلم ’اتا پتہ لاپتہ‘ بنانے کے لیے تقریباً پانچ کروڑ انڈین روپے کا قرض لیا۔

 

فلم باکس آفس پر ناکام رہی اور ان کی امیدوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی ڈوب گیا۔ بینک کا سود بڑھتے بڑھتے نو کروڑ روپے تک جا پہنچا۔ اتا پتہ والا ننھا منا معصوم سا راجپال خود لاپتہ ہو گیا۔ 

 

عدالت نے انہیں متعدد بار موقع دیا، لیکن وہ رقم ادا کرنے سے قاصر رہے اور یوں چند روز پہلے انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ 

 

ایک طرف وہ بالی وڈ کے لیے ان گنت ایسے یادگار کردار ادا کر چکے ہیں جن پر ہر بار ماضی یاد آتا ہے تو دوسری طرف کریڈٹ کارڈ کی حد سے تجاوز کرتی اصل زندگی نے انہیں ایک قانونی جنگ میں شکست دے دی۔

 

خبروں میں کبھی کبھار ذکر سنتے کہ راجپال عدالت کی یاترا کر آئے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن انہیں اپنی مسکان کے ساتھ ساتھ اپنی آزادی بھی گروی رکھنا پڑے گی۔ 

 

راجپال یادو اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں کندرا میں پیدا ہوئے۔ خاندان کا دور، دور تک تھیٹر یا فلموں سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ 

 

ایک انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں محلے کے بچوں اور رشتہ داروں کی نقلیں اتارتے تھے۔ کبھی استاد بن جاتے، کبھی پولیس والا، کبھی روتی ہوئی خالہ۔ غربت میں ہنسی مزاح واحد چراغ تھا جس سے ذرا روشنی ہوتی۔ 

 

ایک دن گاؤں سے نکلے، کرایہ تھا نہیں، سٹوڈنٹ بن کر بس پر لٹکتے ہوئے لکھنؤ کی تھیٹر اکیڈمی جا پہنچے۔ نہ رہنے کی جگہ، نہ کھانے کو پیسے، مگر سوچ لیا تھا کہ اداکار بننا ہے۔ 

 

لکھنو چھوڑا تو دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ میں داخلہ لے لیا۔ اس دور کا ایک واقعہ بہت دلچسپ ہے۔ 

 

ریہرسل ہال میں اکثر ایسا ہوتا کہ دوسرے طلبہ شیکسپیئر یا کلاسیکی ڈرامے کے بھاری بھرکم مکالمے ادا کرتے اور راجپال وہی مکالمے مزاحیہ انداز میں دہرا کر ساری توجہ کھینچ لیتے۔

 

دوستوں کو بہت غصہ آتا کہ یہ ’بھانڈ‘ بغیر محنت کے ساری شاباشی لے جاتا ہے۔ ایک بار سنجیدہ ٹریجڈی سین میں راجپال نے اچانک ایسا ردعمل دیا کہ پورا منظر کامیڈی میں بدل گیا۔

 

سب ناراض ہوئے کہ یہ کیا بکواس ہے۔ بعد میں وہی سین اساتذہ نے مثال کے طور پر دکھایا کہ ’دیکھو، ٹائمنگ کسے کہتے ہیں۔‘

 

این ایس ڈی کے انہی دنوں میں راجپال کو احساس ہو گیا کہ وہ روایتی ہیرو نہیں بن سکتے، مگر ایک ایسا اداکار ضرور بن سکتے ہیں جو سین اڑا لے جائے۔

سوچیے، ایک چھوٹے قد کا سادہ سا لڑکا، جس کا جسم ہیرو کے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتا، بظاہر کوئی دلکشی نہیں لیکن وہ ملک کے سب سے بڑے ڈرامہ سکول میں سٹیج پر چھایا رہتا ہے۔

یہیں سے اس لڑکے کو اعتماد ملا اور اس نے بالی وڈ کا رخ کیا۔ ’بھول بھلیاں‘ کا چھوٹا پنڈت کون بھول سکتا ہے؟ خوف اور معصومیت کا ایسا امتزاج جس نے ہمارے عہد میں ایک بہترین مزاحیہ اداکار کو جنم دیا۔ 

 

فلم ’بھول بھلیاں‘ میں ان کا کردار بہت چھوٹا تھا۔ سکرپٹ کے مطابق وہ محض چند منٹ کے لیے آتے ہیں، ایک ڈرا ہوا، عجیب سا پنڈت بن کر۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے ڈائیلاگ خود بدل دیے، باڈی لینگویج پر کام کیا، آنکھوں اور چیخوں کو ہتھیار بنایا اور پھر وہ لاجواب سین آیا جہاں وہ ڈر کر چیختے ہیں، بھاگتے ہیں اور دھڑام سے گر جاتے ہیں۔ پورا سینیما ہال ہنسی سے گونج اٹھتا ہے۔

فلم میں اکشے کمار جیسے بڑے ستارے موجود تھے، مگر شو کے بعد لوگ ’چھوٹے پنڈت‘ کو ہی ڈسکس کر رہے تھے۔ سب کو اندازہ ہو گیا کہ یہ چھوٹا لڑکا سائیڈ رول نہیں کرتا، سین چرا لیتا ہے۔ 

 

اس کے بعد ’بھاگم بھاگ‘، ’دھول‘، ’پھر ہیرا پھیری‘، ’گرم مسالا‘، ’مجھ سے شادی کرو گی‘، ایک لمبی لائن ہے فلموں کی، جو محض کہانیاں نہیں، ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ راجپال ٹھیک ٹھاک قسم کی زندگی ہمارے اندر بسر کر رہے ہیں۔ 

 

آپ تصور کریں کہ ایک اداکار جو فلم میں ہیرو نہیں، ولن نہیں، بس دو گھنٹے میں دس بارہ منٹ کے لیے بھی سکرین پہ آئے تو میلہ لوٹ لے جائے۔

 

چھوٹے موٹے سائیڈ رول کرتے ہوئے بھی اکثر فلم کے سب سے یادگار لمحات ان کے حصے میں ہی آتے ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں۔ ان کی اداکاری میں کوئی تکلف نہیں، بس کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ ردعمل دیتے ہیں۔

 

ان کا ردعمل ہی سب کچھ ہوتا ہے، وہی سکرپٹ ہے، وہی سین ہے، وہی سین کی جان ہے۔ 

 

راجپال یادو نے ہم سب کو سکھایا کہ مزاح ایک فن ہے، لیکن زندگی خود ایک ستم ظریف کردار ہے جس کے سٹوری بورڈ پر کبھی خوشی، کبھی دکھ، کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی لکھی ہوتی ہے۔

 

 راجپال سے نئے رول پر تعزیت کرنی ہے یا مبارک باد دینی ہے؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *