لوہے سے بنے گنبد نما فریم کی دونوں جانب کھڑکیاں بنائی گئی تھیں اور اس کے اوپر سرخ رنگ کی چادر بچھائی گئی تھی جس سے پورا فریم ڈھانپا گیا تھا۔
فریم کے دونوں جانب سٹیل کے پائپ سے بنے ڈنڈے لگائے گئے تھے اور چار بندوں نے اس کو کندھے پر اٹھا رکھا تھا۔
ڈول بجانے والا اور شہنائی ساتھ ساتھ بج رہی تھی اور باراتی پیچھے چلتے ہوئے تالیاں بجاتے، خوشیاں منا رہے تھے اور انہی لوگوں کے بیچ میں دلہا بھی ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔
یہ منظر ضلع لوئر دیر کے گاؤں ملک آباد میں اس بارات کا تھا جس میں پرانی روایت کی ڈولی کو دلہن کو سسرال لانے میں استعمال کیا گیا تاکہ اس معدوم روایت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
دلہا مقصود رحمان کے مطابق ان کے والدین کہا کرتے تھے کہ پرانے زمانے میں یہی سواری استعمال ہوتی تھی اور میری خواہش تھی کہ اسی پرانی تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
مقصود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آج کل گاڑیاں ہیں اور گاڑی کو سجا کر اسی میں دلہن کو میکے سے لایا جاتا ہے لیکن میرا یہی شوق تھا کہ ڈولی میں دلہن کو گھر لے کر آؤں اور ایسا ہی کیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ملک جہان عالم یوسفزئی (بین الاقوامی) جرگے کے چیئرمین ہیں اور ان کے مطابق پرانے زمانے میں یہ روایت بہت عام تھی اور دلہن کو سسرال لانے کے لیے ڈولی کا استعمال کیا جاتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ زیادہ تر قریبی میکے اور سسرال کے گھروں میں ہوتا تھا کہ باراتی دلہن کے گھر جاتے تھے اور ڈولی میں دلہن کو بٹھا کر لاتے تھے۔
جہان عالم نے بتایا کہ ’دلہن کا گھر اگر دور ہوتا تو باراتی ایک دن پہلے دلہن کے گھر جا کر رات گزارتے تھے اور اگلے دن ڈولی میں دلہن کو بٹھا کر لایا جاتا تھی۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ ڈولی کے ساتھ باراتی جاتے تھے اور پورے راستے میں ڈول سرنا بجایا جاتا تھا جبکہ انہی باراتیوں کے پاس جہیز کا سامان بھی ہوتا تھا۔
ڈولی کی تاریخ
ڈولی یا پالکی کی روایت جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی ہے اور ’مائی ویڈنگ انٹرنس‘ نامی کمپنی کے مطابق ڈولی کو Palanquin بھی کہا جاتا ہے جو سنسکرت زبان کے لفظ ’پلیانکا‘ سے نکلا ہے جس کا مطل ’بیڈ‘ یا ’کاؤچ‘ کے ہیں۔
ڈولی کی بازوؤں کو پکڑنے والوں کو کہارے کہا جاتا ہے جو عمومی طور پر دلہن کے بھائی یا دیگر رشتہ دار ہوتے ہیں۔
اسی میگزین کے مطابق ڈولی شاہی خاندان کی خواتین کے لیے استعمال ہوتی تھی کیونکہ یہ ایک محفوظ سواری سمجھی جاتی تھی جس میں خواتین خود کو محفوظ سمجھتی تھیں اور اس کے بعد اس کا استعمال شادی میں رخصتی کے لیے ہونا شروع ہو گیا۔
ڈولی میں دلہن کو بٹھایا جاتا تھا اور دلہا اسی کے ساتھ گھوڑے یا ہاتھی پر سوار ہو کر باراتیوں کے ساتھ جاتا تھا اور یہ رواج ہندوستان کے مختلف علاقوں میں عام تھا۔
