خانہ کعبہ کا دروازہ: 280 کلو سونے سے بنے فن پارے کی دلچسپ تاریخ

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ صدیوں سے مسجد الحرام کی نمایاں ترین حصوں میں سے ایک ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق خانہ کعبہ کا دروازہ مشرقی جانب واقع ہے اور یہ مطاف کے فرش سے تقریباً 2.25 میٹر بلند ہے۔

یہ ڈیزائن اس لیے رکھا گیا تاکہ ماضی میں مکہ کو متاثر کرنے والے سیلابی پانی سے کعبہ محفوظ رہے۔

خانہ کعبہ کا دروازہ شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں 1399 ہجری، 1979 عیسوی میں تیار کیا گیا۔ اس کی اونچائی تقریباً 3.1 میٹر اور چوڑائی 1.9 میٹر ہے۔

یہ تقریباً 280 کلوگرام خالص 24 قیراط کے سونے سے بنایا گیا ہے۔ اس طرح یہ دنیا کے سب سے قیمتی دروازوں میں شمار ہوتا ہے۔

دروازے کا بیرونی حصہ اسلامی نقش و نگار سے مزین ہے۔ یہاں قرآنی آیات کی خطاطی کی گئی ہے۔

اس میں دو بڑے حلقے ہیں جن کی مدد سے دروازہ کھولا جاتا ہے۔ دھاتی سیڑھی خانہ کعبہ کے اندر لے جاتی ہے۔

یہ سیڑھی ان مواقع پر استعمال ہوتی ہے جب کعبہ کے اندر داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی دروازے خانہ کعبہ کے دروازے کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔

تاریخی ماخذ بتاتے ہیں کہ پہلا دروازہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت نصب کیا تھا جب انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور اس وقت یہ ایک سادہ دروازہ تھا جو براہ راست زمین پر ٹکا ہوا تھا۔

اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں کعبہ کے دروازے کی دیکھ بھال اور تبدیلی کا کام ہوتا رہا۔ خلفا اور سلاطین اس کی تجدید اور نگہداشت کو یقینی بناتے رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی دور میں اس دروازے کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

خاص انتظامات کے تحت سال میں کئی بار کعبہ کے اندر صفائی کی جاتی ہے اور غسل دیا جاتا ہے۔

اس عمل میں زمزم کے پانی میں عرق گلاب ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر حکام، علما اور کعبہ کے خدمت گار موجود ہوتے ہیں۔

کعبہ کی چابی آل شیبہ خاندان کے پاس ہے، جسے حضرت محمد کے زمانے سے اس چابی کی حفاظت اور دروازہ کھولنے کی ذمہ داری ورثے میں ملی ہوئی۔

کعبہ کا دروازہ اسلامی فن کا نادر شاہکار ہے جو درست تاریخ اور فنی نفاست کو ایک ساتھ سموئے ہوئے ہے۔

یہ اس توجہ کی بھی عکاسی کرتا ہے جو سعودی عرب حرمین شریفین اور ان کے نمایاں حصوں پر دیتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *