پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ خطے کی صورت حال اور اس کے نتیجے میں حکومتی کفایت شعاری مہم کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہوں ایڈیشن کے میچ صرف لاہور اور کراچی میں منعقد ہوں گے۔
فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
حکومت پاکستان نے عالمی قیمتوں کے پیش نظر مارچ کے اوائل میں پیٹرولیم مصنوعات میں 55 روپے کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اتوار کو پی ایس ایل کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ پی ایس ایل اس سال ضرور ہو گی، لیکن حکومتی کفایت شعاری اقدامات کے پیش نظر کچھ فیصلے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لیگ شیڈول کے مطابق 26 مارچ سے ہی شروع ہو گی، تاہم اس کی افتتاحی تقریب نہیں ہو گی۔
پی ایس ایل کے میچ کئی شہروں میں ہونا تھے، لیکن اب محسن نقوی کے مطابق یہ صرف لاہور اور کراچی میں ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میچوں کے دوران میدان میں تماشائی نہیں آ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی فرنچائزز کو گیٹ منی کے نقصان کا ازالہ بورڈ کرے گا۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جواب میں بتایا کہ لیگ کے دوران سکیورٹی کے خدشات نہیں اور ان اقدامات کو صرف کفایت شعاری مہم کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے فیصلوں کے بعد شیڈول کا دوبارہ اعلان ہو گا اور کوشش کی جائے گی کہ ٹیموں کی نقل و حرکت محدود رہے۔
انہوں نے میچوں کے ٹکٹ خریدنے والوں کے لیے اعلان کیا کہ ان کو ٹکٹوں کی رقوم واپس کی جائیں گی۔
پی ایس ایل کا ایک میچ کئی سالوں کے وقفے کے بعد پشاور کے عمران خان سٹیڈیم میں بھی شیڈول تھا۔
محسن نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران خاص طور پر پشاور کے رہائشیوں سے معذرت کی کہ حالات کی وجہ سے وہاں میچ نہیں ہو گا۔
تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اگلی مرتبہ پشاور میں ایک سے زیادہ میچ رکھے جائیں گے۔
