آج اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایک مرکزی، لیکن متنازع کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
مین ہیٹن کے ایک رئیل سٹیٹ ڈویلپر سے عالمی سفارت کار بننے کا یہ سفر جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی سوالات سے بھرا ہوا بھی۔
ایران نے ان کے ساتھ براہ راست بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں کشنر اور ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ عمان میں ہونے والے مذاکرات میں شامل تھے، جن کے دوران ہی امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔
ایران کشنر کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات اور فلسطینیوں کے بارے میں خیالات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور کاروباری دنیا
1981 میں پیدا ہونے والے کشنر نے اپنے والد کی تعمیر کردہ رئیل سٹیٹ کمپنی ’کشنر کمپنیز‘ کو اس وقت سنبھالا جب ان کے والد کو کاروبار سے متعلق مختلف جرائم کی وجہ سے قید ہو گئی، البتہ بعد میں ٹرمپ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔
کشنر کے دادا اور دادی کا تعلق بیلاروس سے ہے۔ ان کی دادی ہٹلر کی یہود دشمنی کی مہم کے دوران مبینہ طور پر ایک سرنگ کھود کر کنسٹریشن کیمپ سے فرار ہوئی تھیں۔
کشنر اور ان کے والد ڈیموکریٹ تھے۔ کشنر کے اخبار نیویارک آبزرور نے 2008 میں براک اوباما کی حمایت کی تھی، مگر بعد میں وہ رپبلکن بن گئے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق کشنر کے والد چارلز کشنر کے نتن یاہو کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ چارلز نے اسرائیل کے لیے لاکھوں ڈالر کے عطیات دیے ہیں۔
جب کشنر کا خاندان نیوجرسی میں رہتا تھا تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بننے سے قبل نتن یاہو ان کے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک موقعے پر وہ جیرڈ کے بیڈ روم میں سوئے تھے اور جیرڈ نے وہ رات بیسمنٹ میں گزاری تھی۔
کشنر نے یہودی مذہبی سکولوں میں تعلیم حاصل کی جہاں انہیں مخصوص یہودی ٹوپی پہنا پڑتی تھی، مگر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کشنر نے یہ ٹوپی پہننا چھوڑ دی۔
2009 میں انہوں نے ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے شادی کی۔ ٹرمپ نے 2017 میں اقتدار میں آنے کے بعد انہیں سینیئر مشیر کا عہدہ دے دیا، جس کے بعد ان پر اقربا پروری کا الزام لگا۔
ناکام ’ڈیل آف دا سینچری‘
ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی کشنر کو مشرق وسطیٰ کا امن مشن سونپ دیا، حالانکہ ان کے پاس سفارت کاری کا تجربہ تھا، نہ ہی مشرق وسطیٰ کے ساتھ کوئی تعلق۔ اس امن مشن کو ’ڈیل آف دا سینچری‘ کا نام دیا گیا مگر یہ ناکام ثابت ہوا۔
ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں کشنر ٹرمپ کے قائم کردہ ادارے ’بورڈ آف پیس‘ کے رکن بنے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے انہوں نے ایک منصوبہ پیش کیا جس میں ساحل پر ریزورٹس، ڈیٹا سینٹرز، ہوائی اڈے اور ریلوے کے پروجیکٹ دکھائے، لیکن اس دوران وہاں مقیم 22 لاکھ فلسطینیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جو وہاں مقیم ہیں۔ اس پر کڑی تنقید ہوئی تھی۔
کشنر نے 2020 میں اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان ابراہیمی معاہدوں میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔
کشنر پر ایک الزام یہ بھی لگتا رہا ہے کہ ان کی کمپنی افینٹی پارٹنرز مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری کے فنڈز اکٹھے کر رہی ہے، اس لیے ان کا وہاں سرکاری حیثیت سے کام کرنا مفادات کے ٹکراؤ کی ذیل میں آتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اور کشنر اس کا انکار کرتے ہیں۔
ایران کا کشنر پر عدم اعتماد
آج 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران مذاکرات میں کشنر اور ان کے ساتھی سٹیو وٹکوف کی موجودگی تنازعے کا شکار ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سی این این کے مطابق تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان دونوں سے بات نہیں کرنا چاہتا۔
ایران کا موقف ہے کہ یہ دونوں اسرائیل کے حامی اور فنڈ ریزر ہیں اور کشنر تو مذاکرات کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فنڈ کے لیے پانچ ارب ڈالر بھی اکٹھے کر رہے ہیں۔
ایران نے نائب صدر جے ڈی وینس کو مذاکرات کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا ہے۔
کشنر نے صحافیوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ سفارت کاری اور ذاتی کاروبار کو نہیں ملائیں گے، یہ وعدہ فوری طور پر توڑ دیا گیا۔
وہ ایک ہی وقت میں امن کے سفیر بھی ہیں اور سرمایہ کاروں کی تلاش میں بھی۔
