پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے محکمہ پولیس میں اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔
اتوار کو لاہور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے پولیس اصلاحات کے حوالے سے جامع منصوبہ طلب کیا۔
ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا افتتاح کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوام کو ضرورت کے وقت مدد کے لیے پولیس پر بھروسہ ہونا چاہیے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شکایات کے ازالے کے لیے پولیس سٹیشنوں کے باہر پینک بٹن نصب کیا جائے گا جبکہ تفتیشی عمل کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کے اصولی فیصلے کی بھی منظوری دی گئی۔
لاہور: وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا پنجاب پولیس اصلاحات کے بارے میں اعلی سطح اجلاس https://t.co/ph9o2LmEcP
اس کے علاوہ صوبے میں آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے سلسلے میں پنجاب پولیس کو اپنے اہلکاروں کی ’گرومنگ‘ یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں اور عوام کی ’عزت نفس‘ مجروح کرنے سے سختی سے منع کیا۔
انہوں نے اجلاس کے دوران پنجاب کے آئی جی عبدالکریم کو ہدایت دی کہ وہ پولیس عملے کی تربیت اور ذہنی رویوں کی اصلاح کو ترجیح دیں کیونکہ عوام کی جانب سے پولیس کے ’ڈرانے دھمکانے والے رویے‘ پر شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
مریم نواز نے زور دیتے ہوئے کہا ’پولیس اہلکاروں کو سکھائیں کہ عوام سے کیسے بات کرنی ہے، انہیں ذہنی طور پر بھی تیار کریں۔
’جو اہلکار شہریوں کو ‘سر’ یا ‘صاحب’ کہہ کر مخاطب نہیں کریں گے انہیں عوام سے ڈیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہنے والے اہلکار مناسب باڈی لینگوئج اختیار کریں اور شہریوں سے عزت و احترام سے پیش آئیں۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پنجاب پولیس اکثر عوام کو سڑکوں پر ’اوئے‘ کہہ کر پکارتے ہیں جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے سختی سے کہا ’عوام کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کریں۔ غلطی کا انکار نہ کریں، اعتراف کریں اور اس کی درستی کی جانب بڑھیں۔ ہم عوام کی خدمت کے لیے ہیں، انہیں دھمکانے کے لیے نہیں۔‘
مریم نواز نے مزید اعلان کیا کہ ہر پولیس اہلکار کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ تیار کی جائے گی۔
انہوں نے شکایات کے فوری اندراج اور ڈیوٹی کے دوران باڈی کیمرے استعمال کرنے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کیں۔
