یہ دو برس پہلے کی بات ہے جب ہماری نارویجن زبان کی کلاس میں ایک 19 برس کے یوکرینی لڑکے نے نارویجن زبان کی ٹیچر کو یہ کہہ کر ’شٹ اپ کال‘ دی کہ تمہیں نہیں پتہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ سوال بڑا عمومی سا تھا کہ نارویجن زبان میں اپنی پہلی ملازمت کے بارے میں بتانا تھا۔
وہ لڑکا پھر کئی دن کلاس میں نہیں آیا، لینگویج سکول آتا اور کیفے ٹیریا میں کافی لے کر بیٹھ جاتا۔ کئی دن بعد ہماری بات ہوئی تو بس وہ اتنا بتا سکا کہ وہ ابھی 18 برس کا بھی نہیں ہوا تھا کہ اسے زبردستی یوکرینی فوج میں جانا پڑ گیا جہاں سے وہ جیسے تیسے بھاگا ہے۔ وہ پھر تلخ ہو گیا کیونکہ وہ ہر اس چیز سے فاصلہ رکھنا چاہتا ہے جو اسے یوکرین کی یاد دلائے۔
یہ ایک نوجوان کا فطری ردعمل ہے جس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم جنگ کی وحشتوں کے ساتھ رکھا ہے۔ اس وقت یوکرین کا ہر تیسرا بچہ کسی نہ کسی یورپی ملک میں بطور پناہ گزین اپنا ٹوٹا پھوٹا بچپن گزار رہا ہے۔ یہاں ناروے میں میرے اپنے سرکل میں کوئی چھ یوکرینی خاندان ایسے ہیں جن کے گھر والے مختلف ملکوں میں بٹ چکے ہیں۔ گھر کے جس فرد کو جہاں پناہ ملی وہ وہیں ٹکا ہوا ہے۔ ان خاندانوں کے یوکرینی بچوں کو نہ اپنا گھر نصیب ہوا، نہ خونی رشتے اور نہ اپنا وطن۔
یوکرینی بچوں کو تو یورپ میں بہت ناز نخروں سے پالا جا رہا ہے، ہماری آج کی اس دنیا میں بہت سے بچے ایسے ہیں جن کا بچپن کھیل کے میدان سے ایک دم کھانا لینے کی قطاروں میں جا پہنچا ہے۔ یہ غزہ کے بچے ہیں جنہیں اسرائیل کا جنگی جنون یتیم کر چکا ہے، یہ وہ بچے ہیں جو بچ گئے ورنہ اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں مارے جانے والے بچوں کی تعداد 21 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان میں ہزاروں وہ ہیں جنہوں نے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھی تھی۔ عمر بھر کے لیے معذور ہو جانے والے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
کتنے ہی ننھے بچے ایسے ہیں جو آج سکول کی جگہ اپنے ہم جماعتوں کی قبر پر اپنی امی کی انگلی پکڑ کر جا رہے ہیں، یہ ایران کے پرائمری سکولوں میں نشانہ بننے والے بچے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے لبنانی بچوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں جا پہنچی ہے، لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں بے گھر ہو جانے والے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
افغانستان کے بچے وہ ہیں جن کے والدین پہلے پڑوسی ملکوں میں افغان مہاجرین بنے، پھر بظاہر امن ہوا تو انہیں اپنے وطن افغانستان واپس دھکیل دیا گیا لیکن شومیِ قسمت کہ وطن واپسی ہوئی تو آج ان کی اگلی نسل کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے۔
کبھی کبھی تو بڑا ترس آتا ہے اس نسل پر جو ابھی بولنا بھی نہیں سیکھی، انہیں کون سی دنیا ملے گی؟ بارود کی بو میں لپٹی دنیا، اجڑے شہروں کی دھول میں اٹی دنیا، یا بمباری سے جل کر خاکستر ہونے والے گھروں کی راکھ میں ڈھکی دنیا؟ یوکرین، تہران، افغانستان، صومالیہ بلکہ زیادہ دور نہیں جاتے اپنے پاکستان کے بچوں کا سوچ لیتے ہیں جو جنگوں سے ایسے آشنا ہو گئے ہیں کہ امن کی بات انہیں کسی دیوانے کا خواب لگتی ہے۔
فوجی جرنیل نقشوں پر لکیریں کھینچ کر دشمن کو زیر کرنے کی ترکیبیں سوچتے ہیں، ادھر حکمران زبانی جمع خرچ کرتے ہیں اور ایوانوں میں بیٹھ کر فتح کے دعوے کرتے ہیں، صحافی اور انفلوئنسرز کبھی ایک ٹولے پر لعن طعن کرتے ہیں کبھی دوسرے ٹولے کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ یہ بڑے بڑوں کا کھیل ہے لیکن بڑوں کی ان جنگوں میں جن کا سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے وہ معصوم بچے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف زمین یا طاقت نہیں چھینتیں، بلکہ ایک پوری نسل کی روح کو زخمی کر دیتی ہیں۔
لیکن جو اس وقت ہو رہا ہے یہ ماضی کی روایتی جنگوں سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ یہ جنگیں نہیں انسانی نسل کشی ہو رہی ہے۔ ماضی میں جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں، مگر آج کے فوجی پلان میں بچوں کے بیڈرومز، سکولوں اور ہسپتالوں کو بھی محاذ جنگ بنایا جا چکا ہے۔
صرف گذشتہ چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران میں 11 سو سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
زخمی اور جنگ زدہ علاقوں کے سہمے بچوں کا ٹراما الگ بحران ہے۔ جب کوئی میزائل ہسپتال پر گرتا ہے یا سکول ملبے کا ڈھیر بنتے ہیں، تو وہاں صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ عمارت کے ملبے تلے ایک بچے کا وہ بھروسہ بھی دفن ہو جاتا ہے جو اسے بڑوں کے بنائے معاشرے پر ہوتا ہے۔ ذرا سوچیں جن کی لوری بموں کی گھن گرج ہو، جن کا کھیل اپنے گھر کے ملبے سے نکلے پتھروں سے کھیلنا ہو وہ بے یقینی و خوف کی گود میں پلے بچے کیسا دھندلا مستقبل لے کر پیدا ہوئے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

