جب بھی ضروت پڑی پاکستان سعودی عرب کی ’مدد‘ کے لیے آئے گا: ترجمان شہباز شریف

پاکستان کے وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان ’چاہے کچھ بھی ہو‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

مشرف زیدی نے بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔

گذشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔  

سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں اعلان کیا گیا کہ ’کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘

مشرف زیدی نے کہا کہ ’اس میں کوئی سوال نہیں ہے کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے لیے آئیں گے، چاہے کچھ بھی ہو اور کب بھی ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اصول پر کام کیا ہے۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازعے کو پورے خطے میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی طور پر بھی کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے کہ معاملات ایسے نہ پہنچیں جہاں اس کا کوئی قریبی ساتھی مزید تنازعات میں الجھ جائے جو ممکنہ طور پر خطے میں استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیجی ریاستوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسا تنازع ہے جس نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو اونچا کردیا ہے اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کا خدشہ پیدا کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشرف زیدی نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے تیل اور ڈیزل کی سپلائی کو سپورٹ کرنے کے انتظامات کیے ہیں کیونکہ اس بحران نے ایندھن کی عالمی قیمتوں کو بلند کر دیا ہے، جو درآمدات پر منحصر جنوبی ایشیا کی معیشت کے لیے ایک چیلنج ہے۔

افغانستان

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا کابل کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ پاکستان کا تنازع افغانستان میں طالبان رجیم کے ساتھ ہے، جو طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور مدد فراہم کر رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ طالبان دہشت گرد پاکستان میں سکول کے بچوں، مسجدوں کو جانے والوں، پاکستان کی خواتین خانہ، ماؤں اور بچوں، فوجیوں اور پولیس والوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔‘

پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک طالبان رجیم اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان واضح طور پر تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *