یہ رمضان کی پہلی سحری تھی، گھڑی میں صبح چار بج کر پندرہ منٹ ہو رہے تھے۔ زیادہ تر گھروں میں چولہے جل رہے تھے، دسترخوان سج رہے تھے اور لوگ روزے کی نیت سے قبل اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے۔
لیکن کراچی کے ایک علاقے سولجر بازار کی تنگ گلیوں میں واقع گل رعنا کالونی کا سکون اچانک ہونے والے ایک ہولناک دھماکے سے دہل کر رہ گیا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ 30 گز پر مشتمل تین منزلہ عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلی منزل پر گیس لیکج کے باعث ہونے والے دھماکے نے نہ صرف متاثرہ عمارت کو تباہ کیا بلکہ ملحقہ گھر کی دیوار بھی منہدم ہو گئی۔ سحری کی تیاری میں مصروف کئی خاندان لمحوں میں ملبے تلے دب گئے۔
علاقے میں ہر طرف افراتفری کا منظر تھا۔ تنگ گلیاں، چیختے سائرن، گرد و غبار اور بے یقینی کی فضا۔ پولیس، رینجرز اور ریسکیو اداروں کے اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے جبکہ ملبے کے اطراف کھڑے لوگوں کے چہروں پر خوف اور آنکھوں میں امید کی آخری جھلک دکھائی دے رہی تھی۔
جب انڈپینڈنٹ اردو جائے وقوعہ پر پہنچا تو معید علی نامی شخص زار و قطار روتے ہوئے باہر نکلے۔ لرزتی آواز میں انہوں نے بتایا: ’مجھے صبح چار بجے بھائی کا فون آیا کہ گھر میں دھماکہ ہو گیا ہے۔ کال سنتے ہی میں یہاں پہنچا تو ریسکیو اہلکار ملبے سے لاشیں نکال رہے تھے۔ میرے بھائی کے تینوں بچے ملبے تلے دب کر جان سے چلے گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی اور بھابھی زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اسی ہجوم میں موجود ایک نوجوان حاشر نے بتایا کہ اس کا کزن پڑوس کی عمارت میں سو رہا تھا۔
ان کے بقول: ’دھماکے کی آواز سن کر اس کی والدہ نے چھت پر جا کر دیکھنے کو کہا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ اوپر گیا تو اچانک چھت کا ایک حصہ گر گیا۔ ہم نے فوراً مل کر اسے نکالا، خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
متاثرہ عمارت کے پڑوسی محمد مرسلین کے مطابق دھماکہ انتہائی زور دار تھا۔
’ہمارا گھر ہل کر رہ گیا، آس پاس کے گھروں کی دیواریں بھی متاثر ہوئیں۔ آواز تقریباً ایک کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد میں نے ریسکیو کو اطلاع دی، عملہ جلد پہنچ گیا مگر اس کے باوجود کئی جانیں ضائع ہو گئیں۔‘
موقع پر موجود ڈی سی ایسٹ نصراللہ نے بتایا کہ عمارت چھوٹے رقبے پر سلیب سٹرکچر کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی۔ دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے سوئی سدرن گیس سمیت متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ حادثہ گیس سلنڈر سے ہوا یا لائن گیس لیکج کے باعث پیش آیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق واقعے میں اب تک 16 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو چکے ہیں۔
رمضان کی پہلی سحری کی وہ گھڑی گل رعنا کالونی کے کئی گھروں کے لیے ہمیشہ کا سوگ بن گئی۔ ملبے تلے صرف ایک عمارت نہیں گری بلکہ کئی خواب اور مسکراتے چہرے بھی دفن ہو گئے۔
