بنگلہ دیش: نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں احسن اقبال کی شرکت متوقع

بنگلہ دیش میں 13ویں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد منگل کو طارق رحمان کی بطور وزیراعظم حلف برداری منعقد ہو رہی ہے، جس میں اہم علاقائی و عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

تقریب میں تقریبا 1,200 مقامی اور غیر ملکی مہمانوں کی شرکت متوقع ہے، جو منگل کو شام 4:00 بجے ڈھاکہ میں نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ (جتیہ سانسد) کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوگی۔ بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نئی کابینہ کے ارکان سے حلف لیں گے۔

طارق رحمان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ پارٹی نے عوامی توقعات کی بنیاد پر اقتصادی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مضبوط وعدے کیے ہیں، جن میں حکمرانی میں اصلاحات، روزگار کے نئے مواقع اور اقتصادی استحکام شامل ہیں۔

تقریب میں صدر محمد شہاب الدین نو منتخب وزیراعظم اور کابینہ کو حلف لیں گے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے اس اہم سیاسی موقع پر جنوبی ایشیا کے اہم رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں پاکستان، انڈیا، چین، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا اور دیگر ممالک کو دعوت نامے ارسال کیے جا چکے ہیں۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال کریں گے، کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے سے طے شدہ سرکاری دورے کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ وہ اس وقت آسٹریا میں ہیں تاہم پاکستان میں ابھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔

انڈیا کی لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا اور خارجہ سیکرٹری وکرم مصری 17 فروری کو طارق رحمان کی بنگلہ دیش وزیر اعظم کی حلف برداری میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

یہ حلف برداری صرف ملکی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ خطّے میں سفارتی تعلقات اور تعاون میں نئے باب کا آغاز بھی تصور کی جا رہی ہے۔ بی این پی قیادت کی جانب سے علاقائی ہم آہنگی اور تعاون کے اعلیٰ سطح کے وعدوں پر زور دیا گیا ہے، خاص طور پر پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

حتمی نتائج کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں جیتیں، جو اتحادیوں کو ملا کر 212 ہو گئیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی 68 نشستیں حاصل کر کے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 59.44 فیصد رہا۔

نیپال سے وزیر خارجہ بالا نندا شرما کی شرکت متوقع ہے۔ سری لنکا سے وزیر صحت نلندا جے تیسہ اس تقریب میں شرکت کریں گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان سمیت مختلف ملکوں نے ان انتخابی نتائج کو جمہوری پیش رفت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے طارق رحمٰن کو فون کرکے انہیں ’تاریخی اور بھرپور کامیابی‘ پر مبارک باد دی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی رحمٰن اور بنگلہ دیشی عوام کو پرامن اور کامیاب انتخابات پر مبارک باد دی۔

جماعت کے رہنما اور بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے وکیل شیشیر منیر کے ایک حالیہ اعلان نے بنگلہ دیش کی نئی کابینہ کی تشکیل پر ایک سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔

ایڈووکیٹ محمد شیشیر منیر، جنہوں نے انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا، لیکن شکست کھا گئے۔ شیشیر منیر نے ہفتہ کی رات اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں شیڈو کابینہ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ترجمان آصف محمود ساجیب بھویان نے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا۔

آصف محمود نے فیس بک پر لکھا، ’ہم شیڈو کابینہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شیڈو کابینہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور مجموعی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے نگرانی کرے گی۔‘

سیاست میں، ’شیڈو کابینہ‘ کا تصور ویسٹ منسٹر نظام کی طرز پر بنائے گئے پارلیمانی نظاموں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ایسے ممالک میں اپوزیشن جماعتیں اکثر اپنی شیڈو کابینہ مقرر کرتی ہیں جو حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، تنقید اور متبادل تجویز کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں شیڈو کابینہ کی تشکیل کبھی باضابطہ طور پر نہیں کی گئی۔ ملک کا موجودہ سیاسی فریم ورک ایسے ادارے کا تقاضا نہیں کرتا۔ تاہم، سیاسی ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ شیڈو کابینہ کا قیام پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کر سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *