بنگلہ دیش کا اگلا وزیراعظم بننے کے لیے تیار طارق رحمٰن اور دیگر قانون سازوں نے منگل کو اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس طرح وہ 2024 کی پرتشدد تحریک کے بعد پہلے منتخب نمائندے بن گئے ہیں۔
طارق رحمٰن اس عبوری حکومت سے اقتدار لینے کے لیے تیار ہیں جس نے شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے 18 ماہ تک 17 کروڑ عوام کے ملک کا انتظام سنبھالا۔
بنگلہ دیش سے وفاداری کا عہد کرنے والے قانون سازوں سے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے حلف لیا۔
توقع ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قانون ساز رسمی طور پر طارق رحمٰن کو اپنا لیڈر منتخب کریں گے، جس کے بعد صدر محمد شہاب الدین منگل کی سہ پہر وزیراعظم اور ان کی کابینہ سے عہدے کا حلف لیں گے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں17 فروری ملک کی نو منتخب حکومت کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کریں گے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تقریب میں پاکستان کی شرکت بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کے لیے اس کی حمایت کی عکاس ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفید تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم پہلے سے طے شدہ غیر ملکی مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
Ahsan Iqbal Chaudhary, Pakistan’s Minister for Planning, Development and Special Initiatives, paid a courtesy call on Chief Adviser Professor Muhammad Yunus at the State Guest House Jamuna on Tuesday. pic.twitter.com/s8RY8cSZ8x
— Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) February 17, 2026
60 سالہ طارق رحمان، جو بی این پی کے سربراہ اور ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ ہیں، نے 12 فروری کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے ہفتے کو اپنی فتح کی تقریر میں کہا، ’یہ فتح بنگلہ دیش کی ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے۔
’یہ فتح ان لوگوں کی ہے جو جمہوریت کی خواہش رکھتے ہیں اور جنہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘
لیکن انہوں نے درپیش چیلنجز سے بھی خبردار کیا ہے، جن میں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ کے معاشی مسائل سے نمٹنا شامل ہے۔
انہوں نے اپنی فتح کے بعد تقریر میں مزید کہا کہ ’ہم ایک ایسی صورت حال میں اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں جہاں ہمیں آمرانہ حکومت کی چھوڑی ہوئی کمزور معیشت، کمزور پڑ چکے آئینی اور قانونی اداروں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا سامنا ہے۔‘
نئے رہنما نے مہینوں جاری رہنے والے ہنگاموں کے بعد استحکام بحال کرنے اور ترقی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کیا ہے، ان ہنگاموں نے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کر دیا تھا۔
انہوں نے تمام جماعتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ برسوں کی تلخ دشمنی کی وجہ سے تقسیم شدہ ملک میں ’متحد رہیں۔‘
’پرامن اپوزیشن‘
طارق رحمٰن کی جیت ایک شخص کے حوالے سے حیران کن تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جو برطانیہ میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد، ڈھاکہ کے سیاسی طوفانوں سے دور، محض دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئے۔
جماعت اسلامی کی قیادت زیر قیادت اتحاد کی 77 نشستوں کے مقابلے میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں۔
جماعت اسلامی جس نے پارلیمنٹ میں ایک چوتھائی سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جو اس کی پچھلی بہترین کارکردگی سے چار گنا زیادہ ہیں، نے 32 حلقوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔
لیکن جماعت اسلامی کے رہنما 67 سالہ شفیق الرحمٰن نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جماعت ’ایک چوکس، اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر کام کرے گی‘۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
78 سالہ شیخ حسینہ، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر غائبانہ سزائے موت سنائی گئی تھی، نے انڈیا میں روپوشی کے دوران ایک بیان جاری کرتے ہوئے انتخابات کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔
لیکن انڈیا نے بی این پی کی ’فیصلہ کن جیت‘ کی تعریف کی جو شدید کشیدہ تعلقات کے بعد ایک قابل ذکر تبدیلی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بنگلہ دیشن میں ہونے والے عام انتخابات میں صرف سات خواتین براہ راست منتخب ہوئیں، حالاں کہ خواتین کے لیے مخصوص مزید 50 نشستیں پارٹیوں کو ان کے ووٹوں کے تناسب کے مطابق مختص کی جائیں گی۔
اقلیتی برادریوں کے چار ارکان نے نشستیں جیتیں، جن میں دو ہندو شامل ہیں۔ یہ آبادی مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں تقریبا سات فیصد ہے۔
انتخابات سے قبل ہفتوں کی ہنگامہ آرائی کے باوجود، ووٹنگ کا دن کسی بڑے ہنگامے کے بغیر گزر گیا اور ملک نے اب تک نتائج پر نسبتاً پرامن ردعمل ظاہر کیا ہے۔
کرائسز گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے کہا، ’اگر بی این پی معیشت کے لیے اچھا کام کیا تو یہ عمل حکومت کے لیے باقی سب کچھ آسان بنا دے گا۔
’اس سے استحکام کی سطح پیدا کرنے میں مدد ملے گی تاکہ معیشت کے علاوہ دیگر بہت سے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔‘
