بنگلہ دیش: ’جنریش زی‘ کی تحریک کے بعد پہلے انتخابات میں بی این پی کی بڑی کامیابی

بنگلہ دیش کے ٹیلی ویژن چینلز کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعے کو اہم پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ 

جمعرات کی شام پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی رات بھر جاری رہی۔ ان اہم انتخابات کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

جمعرات ہونے والا پارلیمانی الیکشن بنگلہ دیش میں 2024 کی ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلا ووٹ تھا۔ عوامی تحریک نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔

ساڑھے 17 کروڑ آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں کئی مہینوں کے شیخ حسینہ مخالف خونریز ہنگاموں کے بعد استحکام کے لیے ایک واضح انتخابی نتیجہ اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ان ہنگاموں نے روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کیا اور بڑی صنعتوں کو متاثر کیا جن میں دنیا کے دوسرے بڑے برآمد کنندہ بنگلہ دیش کا گارمنٹس سیکٹر بھی شامل ہے۔

یہ خطے میں 30 سال سے کم عمر افراد کی قیادت میں حالیہ تحریکوں کے بعد پہلا قومی الیکشن بھی تھا۔

بی این پی کی کامیابی

ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے انتخابی نتائج میں بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے تک بی این پی نے 300 ارکان پر مشتمل ’جاتیہ سنسد‘ یا ایوان میں 185 نشستیں حاصل کر لی تھیں اور اس طرح سادہ اکثریت کے لیے درکار نصف تعداد کا ہندسہ آسانی سے عبور کر لیا۔

جیسے جیسے گنتی جاری تھی، بی این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کو 200 نشستیں جیتنے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا یقین ہے۔

بی این پی کی مجلس قائمہ کے رکن عامر خسرو محمود چوہدری نے کہا، ’بلاشبہ، بی این پی جیت رہی ہے۔ یقیناً اکثریت حاصل کر رہی ہے، اور یہ ایک زبردست فتح بھی ہو گی۔ 

’دو تہائی نشستیں جیتنے کو زبردست فتح کہا جاتا ہے، میرے خیال میں ہم 200 نشستوں کی حد عبور کر لیں گے۔‘

بی این پی کی قیادت، وزیراعظم کے عہدے کے سر فہرست امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔

ان کی انتخابی مہم کے وعدوں میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، کسی بھی فرد کے لیے وزیراعظم رہنے کی 10 سال کی حد، غیر ملکی سرمایہ کاری سمیت دیگر اقدامات سے معیشت کو بہتر بنانا اور بدعنوانی مخالف پالیسیاں شامل رہے۔

جماعت اسلامی کا مثبت اپوزیشن کا وعدہ

بی این پی کی اہم حریف، جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ ان کی پارٹی صرف 56 نشستوں پر کامیاب رہی۔  شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی محض مخالفت برائے مخالفت کی ’اپوزیشن کی سیاست‘ میں شامل نہیں ہو گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم مثبت سیاست کریں گے۔‘

زبردست نتیجے کے باوجود، اس الیکشن کو برسوں میں بنگلہ دیش کا پہلا حقیقی مسابقتی ووٹ سمجھا گیا۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی، جس نے ان کی بے دخلی تک 15 سال سے زیادہ عرصے تک ملک پر حکومت کی تھی، کو الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔

جمعرات کو ہونے والی پولنگ کا ٹرن آؤٹ 2024 کے گذشتہ الیکشن میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے تجاوز کرتا دکھائی دیا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کے ووٹ ڈالنے کی توقع تھی۔

دو ہزار سے زیادہ امیدوارجن میں بہت سے آزاد امیدوار بھی شامل تھے پولنگ کے وقت موجود رہے جب کہ کم از کم 50 پارٹیوں نے نشستوں کے لیے الیکشن لڑا، جو ایک قومی ریکارڈ ہے۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے بعد ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔

انتخابات کے ساتھ ہی، آئینی اصلاحات کے ایک سیٹ پر ریفرنڈم بھی منعقد ہوا جس میں انتخابات کے دوران غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانی مقننہ میں تبدیل کرنا، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، عدالتی آزادی کو مضبوط کرنا اور وزیراعظم کے لیے دو بار کی مدت کی حد متعارف کرانا شامل تھا۔

ریفرنڈم کے نتیجے پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔ سرکردہ مقامی اخبار پرتھوم آلو نے رپورٹ کیا کہ ’ہاں‘ یا مثبت ووٹ گنتی میں آگے تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیخ حسینہ نے ووٹ کو ڈھونگ قرار دے دیا

شیخ حسینہ اپنے طویل مدتی اتحادی انڈیا میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں جس سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو خراب ہو گئے ہیں اور چین کے لیے بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا راستہ کھل گیا ہے۔

پولنگ سٹیشنز بند ہونے کے بعد بھیجے گئے ایک بیان میں شیخ حسینہ نے الیکشن کو ایک ’سوچی سمجھی سازش‘ قرار دے کر مسترد کر دیا، جو ان کی پارٹی کے بغیر اور حقیقی ووٹروں کی شرکت کے بغیر منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کے حامیوں نے اس عمل کو مسترد کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’ہم اس ووٹروں کے بغیر، غیر قانونی اور غیر آئینی الیکشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ہٹائی جائے، اور ایک غیر جانب دار نگران حکومت کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور سب کی شمولیت والے الیکشن کے انعقاد کے ذریعے لوگوں کے ووٹ کے حقوق بحال کیے جائیں۔‘

شیخ حسینہ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے دور حکومت میں ہونے والے انتخابات اکثر بائیکاٹ اور ڈرانے دھمکانے سے متاثر ہوتے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *