‘ڈومیل پولیس سٹیشن سے متصل گھر دھماکے کی وجہ سے منہدم ہوگیا جس میں، میں نے اپنا چچا ڈاکٹر نقیب اللہ، ان کی بیٹی جو میری بہو بھی تھیں، اور ڈاکٹر نقیب کا معصوم بیٹا کھو دیا۔ اسی پولیس سٹیشن پر 2013 کے دھماکے میں میری بیوی جان سے چلی گئی تھیں۔‘
یہ کہنا تھا ضلع بنوں کے ڈومیل سے تعلق رکھنے والے عبدالقدیر کا جو ڈومیل پولیس سٹیشن دھماکے میں قریبی رشتہ دار کھو چکے ہیں۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ڈومیل پولیس سٹیشن پر خود کش حملے میں پولیس کے مطابق پولیس سٹیشن کے قریب گھر منہدم ہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت پانچ افراد جان سے گئے ہیں جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے۔
پولیس کے بیان کے مطابق خود کش حملہ آور تھانے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن اپنے عزائم میں ناکامی کے بعد سول آبادی کو نشانہ بنایا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دھماکہ گزشتہ شب تقریباً 10 بج کر 40 منٹ پر ہوا تھا جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عبدالقدیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈومیل پولیس سٹیشن پر 2013 میں بھی دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے یہی گھر منہدم ہوا تھا اور اس میں میری اہلیہ جان سے گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا، ’ڈاکٹر نقیب نے اسی گھر کو دوبارہ تعمیر کیا اور میں الگ گھر بنا کر وہاں شفٹ ہوگیا لیکن آج اسی گھر میں چچا، بہو اور چچا کے بیٹے کو کھو دیا۔ ‘
ڈومیل پولیس سٹیشن پر 2013 میں اسی طرز کا دھماکہ ہوا تھا جب بارود سے بھری گاڑی پولیس سٹیشن کی دیوار سے ٹکرائی گئی تھی جس میں دو قریبی عمارتیں منہدم ہونے سے دو خواتین جان سے گئی تھیں۔
حالیہ دھماکے کی ذمہ داری کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی لیکن گذشتہ کچھ مہینوں میں بنوں سمیت دیگر جنوبی اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
بنوں میں وزیرستان کے بعد پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے سب سے زیادہ حملے بھی ہوئے ہیں جس میں مختلف تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈومیل پولیس سٹیشن کا محل وقوع
بنوں کا ڈومیل پولیس سٹیشن ڈومیل کوہاٹ روڈ پر واقع ہے اور مقامی صحافی فرحت اللہ بابر کے مطابق اس تھانے کے آس پاس آبادی اور مکانات موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ شب دھماکہ تھانے کی عقبی حصے میں ہوا جہاں پرانی تحصیل بلڈنگ بھی موجود ہے اور تھانے کی عقبی دیوار اور مکانات کے درمیان سڑک بھی موجود ہے۔
فرحت اللہ نے بتایا کہ ’مکانات تھانے کی عمارت کے ساتھ متصل نہیں ہیں بلکہ مکانات اور تھانے کے درمیان ایک روڈ ہے لیکن دھماکے کی شدت کی وجہ سے قریب میں دو عمارتیں مکمل منہدم جبکہ دیگر کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔‘
