عراق نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے اس جیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جہاں شام سے منتقل کیے گئے داعش کے ہزاروں عسکریت پسند قید ہیں۔
عراقی حکام کے مطابق فروری میں امریکہ نے شام سے 5700 داعش قیدیوں کو عراق منتقل کیا تھا۔ یہ تمام قیدی اس وقت بغداد کے الکرخ سنٹرل جیل میں رکھے گئے ہیں جو ماضی میں امریکی فوج کا حراستی مرکز کیمپ کراپر کے نام سے جانا جاتا تھا اور بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کمپلیکس کا حصہ ہے۔
عراقی وزارت انصاف کے ترجمان احمد لعیبی نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ بغداد ایئرپورٹ اور ایئرپورٹ جیل کے اطراف کے علاقوں پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق بعض حملے جیل کے قریب ہوئے جس سے اس جیل کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے جہاں ’انتہائی خطرناک دہشت گرد قید ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملے سب سے زیادہ شدید تھے اور ان میں سے بعض جیل کے انتہائی قریب گرے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد ایران نواز مسلح گروہ عراق میں موجود امریکی اڈوں پر روزانہ ڈرون اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
بغداد ایئرپورٹ کے احاطے میں امریکہ کا سفارتی مرکز بھی موجود ہے اور حالیہ عرصے تک یہاں امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے فوجی دستے بھی تعینات رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق جیل اور اطراف کے علاقوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اقدامات موجود ہیں، تاہم حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور گولہ بارود کے جیل کے قریب گرنے کی وجہ سے حکام کو مسلسل تشویش لاحق ہے۔
داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس دوران بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیے جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو غلام بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
بعد ازاں امریکی قیادت میں قائم اتحاد کی مدد سے عراق نے 2017 میں اپنے ملک میں داعش کی شکست کا اعلان کیا، جبکہ دو سال بعد شام میں کرد قیادت میں قائم فورسز نے بھی اس تنظیم کو شکست دے دی تھی۔
