پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ باجوڑ میں ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 11 اہلکار جان سے گئے جب کہ 12 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
باجوڑ میں عسکریت پسندوں نے پیر کو سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے منگل کو ایک بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ چیک پوسٹ پر باجوڑ ضلع میں 16 فروری کو ’دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، جسے فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور چیک پوسٹ کی سکیورٹی حصار کو توڑنے کوشش کر رہے تھے تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 عسکریت پسندوں کو مار ڈالا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ’فرار کے دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دھماکے سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔‘ جس سے 11 اہلکاروں کی جان گئی جبکہ قریبی رہائشی عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک کمسن لڑکی بھی جان گئی اور خواتین و بچوں سمیت سات شہری زخمی ہوئے۔
فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ ’دہشت گرد کو گرفتار یا ختم کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔‘
پاکستان میں 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے خیبر پختونخوا میں حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں زیادہ تر سابقہ قبائلی اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سرحد پار افغانستان میں خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے اور وہاں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کر رہی ہے۔
تاہم کابل اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
