ایران کا امریکہ سے معاہدہ کرنا ’دانشمندی‘ ہو گی: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ’دانشمندی‘ ہوگی جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فوجی کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔

ایران کی جانب سے گذشتہ ماہ مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن پر ٹرمپ نے تہران کو متعدد بار فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں، جس کے بعد دونوں فریقوں نے حال ہی میں عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے۔

مذاکرات کی ایک سابقہ کوشش اس وقت ناکام ہوگئی تھی، جب گذشتہ جون میں اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے، جس سے 12 روزہ جنگ کا آغاز ہوا اور واشنگٹن بھی مختصر طور پر ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں شامل ہوا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’ایران کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنا بہت دانشمندانہ ہوگا۔‘

دوسری جانب ٹرمپ نے بھی بدھ کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں ایک بار پھر عندیہ دیا کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاری جاری ہے۔

انہوں نے برطانیہ کو بحرِ ہند میں واقع چاگوس جزائر پر خودمختاری ترک کرنے سے خبردار کیا اور کہا کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو جزیرہ نما میں واقع ڈیئگو گارشیا ایئربیس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ’تاکہ ایک انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک حکومت کی جانب سے ممکنہ حملے کا خاتمہ کیا جا سکے۔‘

امریکی نشریاتی اداروں سی این این اور سی بی ایس نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہو سکتی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اسی طرح وال سٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کو ان کے فوجی آپشنز سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ ’ان سب کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے‘، اس میں ایک ایسی مہم بھی شامل ہے جس کا ہدف ’ایرانی سیاسی اور فوجی قیادت کے درجنوں افراد کو قتل کرنا اور حکومت کا تختہ الٹنا‘ ہے۔

اس سے قبل بدھ کو ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک ’تیار کر رہا ہے۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان منگل کو جنیوا میں عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوا تھا۔

عباس عراقچی نے اس وقت کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن ’رہنما اصولوں‘ پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران نے ابھی واشنگٹن کی تمام ’سرخ لکیروں‘ کو تسلیم نہیں کیا۔

’جنگ نہیں چاہتے‘

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اصرار کیا تھا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے‘، ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ تہران امریکی مطالبات کے آگے جھک نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا: ’جس دن سے میں نے عہدہ سنبھالا ہے، میں یہی سمجھتا آیا ہوں کہ جنگ کو ایک طرف رکھنا چاہیے، لیکن اگر وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کرنے، ہمیں ذلیل کرنے اور کسی بھی قیمت پر سر جھکانے کا مطالبہ کریں، تو کیا ہمیں یہ قبول کر لینا چاہیے؟‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدھ کو ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے فون پر بات کی تھی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اس گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے ’مستقبل کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ابتدائی اور مربوط فریم ورک تیار کرنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کی توجہ‘ پر زور دیا۔

تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ بعض تعاون معطل کر دیے ہیں اور اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے نشانہ بنائی گئی تنصیبات تک ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رسائی محدود کر دی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے پر جانبداری اور حملوں کی مذمت میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا کہ واشنگٹن تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ’کسی نہ کسی طریقے سے‘ روک دے گا۔

انہوں نے پیرس میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اجلاس کے موقعے پر صحافیوں سے کہا: ’وہ اس بارے میں بالکل واضح رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ کیا کریں گے۔ یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔‘

ایران کے قریب امریکہ کی فوجی موجودگی میں ’غیر معمولی‘ اضافہ

عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو ٹالنا تھا، جبکہ تہران اپنی معیشت کو مفلوج کرنے والی امریکی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایران نے زور دیا ہے کہ بات چیت کو صرف جوہری مسئلے تک محدود رکھا جائے، تاہم واشنگٹن اس سے قبل تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

اگرچہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، لیکن امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس وقت واشنگٹن کے مشرقِ وسطیٰ میں 13 جنگی بحری جہاز موجود ہیں: ایک طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ نو ڈسٹرائر اور تین لِٹورل کامبیٹ شپ جبکہ مزید بھی راستے میں ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ اس وقت بحرِ اوقیانوس میں کیریبین سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہے، جب کہ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے اسے وہاں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ تین ڈسٹرائر بھی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایک ہی وقت میں دو امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی موجودگی، جو درجنوں جنگی طیارے لے جاتے ہیں اور ہزاروں سیلرز پر مشتمل ہوتے ہیں، ایک غیر معمولی بات ہے۔

گذشتہ سال جون میں بھی امریکہ کے پاس خطے میں یہ دونوں بڑے بحری جہاز موجود تھے، جب اسرائیل کی ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اس نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس اور فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں طیاروں کا ایک بڑا بیڑا بھی بھیج دیا ہے۔

ان میں ایف۔22 ریپٹر سٹیلتھ لڑاکا طیارے، ایف 15 اور ایف 16 جنگی طیارے اور کے سی 135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں، جو ان کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

بدھ کو فلائٹ ریڈار 24 نے دکھایا کہ متعدد کے سی 135 طیارے مشرقِ وسطیٰ کے قریب یا اس کے اندر پرواز کر رہے تھے، جبکہ ای 3 سینٹری فضائی وارننگ اور کنٹرول طیارے اور کارگو طیارے بھی خطے میں سرگرم تھے۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے، جہاں اسلامی انقلابی گارڈز کور نے پیر کو آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

ایرانی سیاست دان بارہا اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

منگل کو سرکاری ٹیلی وژن نے رپورٹ کیا کہ تہران مشقوں کے دوران حفاظتی اقدامات کے تحت آبی گزرگاہ کے کچھ حصے بند کرے گا۔

دوسری جانب امریکی وفاقی ہوابازی انتظامیہ کی ویب سائٹ پر بدھ کو پوسٹ کیا گیا کہ ایران نے ہوا بازوں کے لیے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ جمعرات کو اپنے جنوبی علاقوں میں 330 گرین وچ معیاری وقت سے 1330 گرین وچ معیاری وقت تک راکٹ داغنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

ایران نے اس ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کی ہیں اور وہ جمعرات کو روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشق کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

نوٹس ٹو ایئر مین کا نظام پائلٹس، پرواز کے عملے اور فضائی حدود استعمال کرنے والوں کو سلامتی سے متعلق اہم اطلاعات فراہم کرتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *